دعویٰ کیا ہے وہ اب بھی اس میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں۔ اور مناسب ہوگا کہ مقام بحث لاہور یا امرتسر مقرر ہوا ور فریقین کے علماء کے مجمع میں یہ بحث ہو۔
خاکسار
مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور
امرتسرؔ میڈیکل مشن۔ ۱۸؍ اپریل ۱۸۹۳ء
جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیان سلامت
تسلیم۔ عنایت نامہ آں صاحب کا وارد ہوا۔ بعد مطالعہ طبیعت شاد ہوئی۔ خاص اس بات سے کہ جنڈیالہ کے اہل اسلام کو آپ جیسے لائق و فائق ملے لیکن چونکہ ہمارا دعویٰ نہ آپ سے پر جنڈیالہ کے محمدیوں سے ہے۔ ہم آپ کی دعوت قبول کرنے میں قاصر ہیں۔ ان کی طرف ہم نے خط لکھا ہوا ہے اور تاحال جواب کے منتظرہیں۔ اگر ان کی مدد آپ کو قبول ہے تو مناسب و باقاعدہ طریقہ تو یہ ہے کہ آپ خود انہیں خطوط لکھیں جو آپ کے ارادے مہربانی کے ہیں ان پر ظاہر کریں اگر وہ آپ کو تسلیم کر کے اس جنگ مقدس کیلئے اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمارا کچھ عذر نہیں بلکہ عین خوشی ہے چونکہ آپ روشن ضمیر و صاحب کار آزمودہ ہیں یہ آپ سے مخفی نہ ہوگا کہ اس خاص بحث کیلئے آپ کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہمارا اختیار نہیں بلکہ جنڈیالہ کے اہل اسلام کا۔ لہٰذا انہیں سے آپ فیصلہ کرلیں بعدازاں ہم بھی حاضر ہیں۔ آپ کے اور انکے فیصلہ کرنے ہی کی دیری ہے۔ زیادہ سلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مشفق مہربان پادری صاحب
بعد ما وجب یہ وقت کیا مبارک وقت ہے کہ میں آپ کے اس مقدس جنگ کے لئے طیار ہو کر