کیلئے نور نہیں آیا۔ اگر وہ نہ آتا اور نہ اس نے بتلایا ہوتا تو حضرت مسیح کے نبی ہونے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ کیونکہ اس کا مذہب مرگیا اور اس کا نور بے نشان ہوگیا اور کوئی وارث نہ رہا جو اس کو کچھ نور دیا گیا ہو۔ اب دنیا میں زندہ مذہب صرف اسلام ہے اورؔ اس عاجز نے اپنے ذاتی تجارب سے دیکھ لیا اور پرکھ لیا کہ دونوں قسم کے نور اسلام اور قرآن میں اب بھی ایسے ہی تازہ بتازہ موجود ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے وقت موجود تھے اور ہم ان کے دکھلانے کے لئے ذ ّ مہ دار ہیں۔ اگر کسی کو مقابلہ کی طاقت ہے تو ہم سے خط و کتابت کرے۔ والسّلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی اور معزز انگریز پادری صاحبوں میں سے ہونے چاہئیں کیونکہ جو بات اس مقابلہ اور مباحثہ سے مقصود ہے اور جس کا اثر عوام پر ڈالنا مدنظر ہے وہ اسی امر پر موقوف ہے کہ فریقین اپنی اپنی قوم کے خواص میں سے ہوں۔ ہاں بطور تنزل اور اتمام حجت مجھے یہ بھی منظور ہے کہ اس مقابلہ کیلئے پادری عماد الدین صاحب یا پادری ٹھاکر داس صاحب یا مسٹر عبداللہ آتھم صاحب عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہوں اور پھر ان کے اسماء کسی اخبار کے ذریعہ سے شائع کر کے ایک پرچہ اس عاجز کی طرف بھی بھیجا جائے اور اس کے بھیجنے کے بعد یہ عاجز بھی اپنے مقابلہ کا اشتہار دے دے گا۔ اور ایک پرچہ صاحب مقابلہ کی طرف بھیج دے گا۔ مگر واضح رہے کہ یوں تو ایک مدت دراز سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا جھگڑا چلا آتا ہے اور تب سے مباحثات ہوئے اور فریقین کی طرف سے بکثرت کتابیں لکھی گئیں اور درحقیقت علمائے اسلام نے بہ تمامتر صفائی سے ثابت کر دیا کہ جو کچھ قرآن کریم پر اعتراض کئے گئے ہیں وہ دوسرے رنگ میں توریت پر اعتراض ہیں اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی شان میں نکتہ چینی ہوئی وہ دوسرے پیرایہ میں تمام انبیاء کی شان میں نکتہ چینی ہے جسؔ سے حضرت مسیح بھی باہر نہیں۔ بلکہ ایسی نکتہ چینیوں کی بناء پر خداتعالیٰ بھی مورد اعتراض ٹھہرتا ہے۔ سو یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہوگی اور دیکھا جاوے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے