توریت استثناء ۱۸-۱۸ سچا ٹھہرے گا ہاں یہ سچ ہے کہ ایسا نشان کسی امر ممکن کا مصدق ہونا چاہئے ورنہ یہ تو جائز نہیں کہ کوئی انسان مثلاً یہ کہے کہ میں خدا ہوں اور اپنی خدائی کے ثبوت میں کوئی پیشگوئی کرے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر وہ خدا مانا جاوے۔ لیکن میں اس جگہ آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب اس عاجز نے ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو ۱۸۸۸ ؁ء میں مرزا امام الدین نے جس کو آپ خوب جانتے ہیں چشمہ نور امرت سر میں میرے مقابل پر اشتہار چھپوا کر مجھ سے نشان طلب کیا تھا تب بطور نشان نمائی ایک پیشگوئی کی گئی تھی جو نور افشاں ۱۰ مئی ۱۸۸۸ ؁ء میں شائع ہوگئی تھی جس کا مفصل ذکر اس اخبار میں اور نیز میری کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۲۷۹،۲۸۰ میں موجود ہے اور وہ پیشگوئی ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ ؁ء کو اپنی میعاد کے اندر پوری ہوگئی۔ سو اب بطور آزمائش آپ کے انصاف کے آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ نشان ہے یا نہیں اور اگر نشان نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور اگر نشان ہے اور آپ نے اس کو دیکھ بھی لیا اور نہ صرف نور افشاں ۱۰ مئی ۱۸۸۸ ؁ء میں بلکہ میرے اشتہار مجریہ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ ؁ء میں بقیدؔ میعاد یہ شائع بھی ہو چکا ہے تو آپ فرماویں کہ آپ کا اس وقت فرض عین ہے یا نہیں کہ اس نشان سے بھی فائدہ اٹھاویں اور اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور براہ مہربانی مجھ کو اطلاع دیں کہ کیا اصلاح کی اور کس قدر عیسائی اصول سے آپ دست بردار ہو گئے کیونکہ یہ نشان تو کچھ پرانا نہیں ابھی کل کی بات ہے کہ نور افشاں اور میرے اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ ؁ء میں شائع ہوا تھا اور آپ کے یہ تمام شرائط کے موافق ہے میرے نزدیک آپ کے انصاف کا یہ ایک معیار ہے اگر آپ نے اس نشان کو مان لیا اور حسب اقرار اپنے اپنی غلطی کی بھی اصلاح کی تو مجھے پختہ یقین ہوگا کہ اب آئندہ بھی آپ اپنی بڑی اصلاح کے لئے مستعد ہیں اس نشان کا اس قدر تو آپ پر اثر ضرور ہونا چاہئے کہ کم سے کم آپ یہ اقرار اپنا شائع