طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اسکوشائع کرے فقط یہ تحریرآپ کی طرف سے بقید نام و مذہب و ولدیت و سکونت ہو اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اُس پر ثبت ہو تب تین اخباروں میں اس کو آپ شائع کراؔ دیں ۔ جبکہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں اب بہر حال وہ وقت آگیا ہے کہ خداتعالیٰ سچّے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دُنیا کو ایک ہی مذہب پر کردیوے سو اگر آپ دل کو قوی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خداتعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریں گے اور آپکی راستبازی کا یہ ہمیشہ کے لئے ایک نشان رہے گا ۔
اور اگر آپ یہ فرماویں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گذریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد اسلام قبول کر لیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجالائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر تم ہی جُھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھلا نہ سکے تو تمہیں کیاسزا ہوگی تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اور اگر یہ خلاف قانون ہو تو کل جائداد اپنی آپکو دُوں گا ۔ جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلّی کرالیں ۔
قولہ ۔ لیکن یہ جناب کو یاد رہے کہ معجزہ ہم اُسی کو جانیں گے جو ساتھ تحدّی مدعی معجزہ کے بظہور آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو ۔
اقوؔ ل ۔ اس سے مجھے اتفاق ہے اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاََ ایک شخص منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے کوئی ایسی پیشگوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہو اور وہ پیشگوئی سچّی نکلے تو وہ حسب منشاء