کردیں کہ اگرچہ ابھی قطعی طور پر نہیں مگر ظن غالب کے طور پر دین اسلام ہی مجھے سچا معلوم ہوتا ہے کیونکہ تحدّی کے طور پر اس کی تائید کے بارہ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری ہوگئی آپ جانتے ہیں کہ امام الدین دین اسلام سے منکر اور ایک دہریہ آدمی ہے اور اس نے اشتہار کے ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور اس عاجز کے ملہم ہونے کے بارے میں ایک نشان طلب کیا تھا جس کو خداتعالیٰ نے نزدیک کی راہ سے اسی کے عزیزوں پر ڈال کر اس پر اتمام حجت کی۔ آپ اس نشان کے رد یا قبول کے بارے ؔ میں ضرور جواب دیں ورنہ ہمارا یہ ایک پہلا قرضہ ہے جو آپ کے ذمّے رہے گا۔ قولہ۔ مباہلات بھی از قسم معجزات ہی ہیں مگر ہم بروئے تعلیم انجیل کسی کے لئے *** نہیں مانگ سکتے۔ جناب صاحب اختیار ہیں جو چاہیں مانگیں اور انتظار جواب ایک سال تک کریں۔ اقول۔ صاحب من مبا ہلہ میں دوسرے پر *** ڈالنا ضروری نہیں بلکہ اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ مثلاً ایک عیسائی کہے کہ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ درحقیقت حضرت مسیح خدا ہیں اور قرآن خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اگر میں اس بیان میں کاذب ہوں تو خداتعالیٰ میرے پر *** کرے۔ سو یہ صورت مباہلہ انجیل کے مخالف نہیں بلکہ عین موافق ہے آپ غور سے انجیل کو پڑھیں۔ ماسوا اس کے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اگر آپ نشان نمائی کے مقابلہ سے عاجز ہیں تو پھر یک طرفہ اس عاجز کی طرف سے سہی۔ مجھ کو بسروچشم منظور ہے آپ اقرارنامہ اپنا حسب نمونہ مرقومہ بالا شائع کریں۔ اور جس وقت آپ فرماویں میں بلاتوقف امرتسر حاضر ہو جاؤں گا۔ یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی میں پڑا ہوا ہے جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خداتعالیٰ کی جگہ دی گئی اور جب کہؔ حضرات عیسائیوں نے ایک سچے اور کامل