میاں بٹالوی صاحب کی اطلاع کے لئے اشتھار واضح ہو کہ شیخ بٹالوی صاحب کی خدمت میں وہ اشتہار جس میں بالمقابل عربی تفسیر لکھنے کے لئے ان کو دعوت کی گئی تھی بتاریخ یکم اپریل ۱۸۹۳ء ؁ ؁ ؁پہنچایا گیا تھا چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب جو اشتہار لیکر لاہور گئے تھے یہ پیغام لائے کہ بٹالوی صاحب نے وعدہ کر لیا ہے جو یکم اپریل سے دو ہفتہ تک جواب چھاپ کر بھیج دیں گے سو دو ہفتہ تک انتظار جواب رہا اور کوئی جواب نہ آیا پھر دوبارہ اُن کو یاد دلایا گیا تو انہوں نے بذریعہ اپنے خط کے جو میرے اشتہار میں چھپ گیا ہے یہ جواب دیا کہ ؔ ہم اپریل کے اندر اندر جواب چھاپ کر روانہ کرینگے چنانچہ اب اپریل بھی گذر گیا اور بٹالوی صاحب نے دو وعدے کر کے تخلف وعدہ کیا ہم ان پر کوئی الزام نہیں لگاتے مگر انہیںآپ شرم کرنی چاہیئے کہ وہ آپ تو دوسروں کا نام بلا تحقیق کاذب اور وعدہ شکن رکھتے ہیں اور اپنے وعدوں کا کچھ بھی پاس نہیں کرتے تعجب کہ یہ جواب صرف ہاں یا نہیں سے ہو سکتا تھا مگر انہوں نے ایک مہینہ گذاردیا اور یہ مہینہ ہمارا صرف انتظاری میں ضائع ہوا اب ہمیں بھی دو ضروری کام پیش آگئے ایک ڈاکٹر کلارک صاحب کے ساتھ مباحثہ دوسری ایک ضروری رسالہ کا تالیف کرنا جو تائید اسلام کے لئے بہت جلد امریکہ میں بھیجا جائے گا جس کا یہ مطلب ہوگاکہ دُنیا میں سچا اور زندہ مذہب صرف اسلام ہے اس لئے میاں بٹالوی صاحب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر ان دونوں کاموں کی تکمیل کے پہلے آپ کا جواب آیا تو ناچار کوئی دوسری تاریخ آپ کے مقابلہ کے لئے شائع کی جائے گی جو ان دونوں کاموں سے فراغت کے بعد ہوگی ۔