اور واجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی اس قدر اشتہار دے دیں کہ اگر بعد مباہلہ مرزاؔ غلام احمد کی تائید میں ایک سال کے اندر کوئی نشان ظاہر ہوجائے جس کے مقابل پر اسی سال کے اندر ہم نشان دکھلانے سے عاجز آجائیں تو بلا توقف دین اسلام قبول کر لیں گے ورنہ اپنی تمام جائداد کا نصف حصہ دین اسلام کی امداد کی غرض سے فریق غالب کو دے دیں گے ۔ اور آئندہ اسلام کے مقابل پرکبھی کھڑے نہیں ہونگے ۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت سوچ لیویں کہ میں نے اپنی نسبت بہت زیادہ سخت شرائط رکھی ہیں اور انکی نسبت شرطیں نرم رکھی گئی ہیں ۔ یعنی اگر میرے مقابل پر وہ نشان دکھلائیں اور میں بھی دکھلاؤ ں تب بھی بموجب اس شرط کے وہی سچے قرار پائیں گے۔ اور اگر نہ میں نشان دکھلا سکوں اور نہ وہ ایک سال تک نشان دکھلا سکیں تب بھی وہی سچے قرار پائیں گے ۔ اور میں صرف اس حالت میں سچا قرار پاؤں گا کہ میری طرف سے ایک سال کے اندر ایسا نشان ظاہر ہو جس کے مقابلہ سے ڈاکٹر صاحب عاجز رہیں اور اگر ڈاکٹر صاحب بعد اشاعت اس اشتہار کے ایسے مضمون کا اشتہار بالمقابل شائع نہ کریں تو پھر صریح ان کی گریز متصور ہو گی ااور ہم پھر بھی انکی منقولی و معقولی بحث کے لئے حاضر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں یعنی نشان نمائی کے امر میں اپنا اور اپنی قوم کا اسلام کے مقابل پر عاجز ہونا شائع کر دیں یعنی یہ لکھدیں کہ یہ اسلام ہی کی شان ہے کہ اس سے آسمانی نشان ظاہر ہوں اور عیسائی مذہب ان برکات سے خالی ہے ۔ میںؔ نے سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے دوستوں کے روبرو یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم مباحثہ تو کریں گے مگر یہ مباحثہ فرقہ احمدیہ سے ہوگا نہ مسلمانانِ جنڈیالہ سے سو ڈاکٹر صاحب کو واضح رہے کہ فرقہ احمدیہ ہی سچے مسلمان ہیں جو خداتعالیٰ کے کلام میں انسان کی رائے کو نہیں ملاتے اور حضرت مسیح کا درجہ اسی قدر مانتے ہیں جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے ۔
والسّلام علٰی من اتبع الھُدٰی