مسٹر عبد اللہ آتھم کے خط کاجواب
آج اس اشتہار کے لکھنے سے ابھی میں فارغ ہوا تھا کہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا خط بذریعہ ڈاکؔ مجھ کو ملا یہ خط اُس خط کا جواب ہے جو میں نے مباحثہ مذکورہ بالا کے متعلق صاحب موصوف اور نیز ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف لکھا تھا ۔ سو اب اس کا بھی جواب ذیل میں بطور قولہ اور اقول کے لکھتا ہوں ۔
قولہ ۔ ہم اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ تعلیمات قدیم کیلئے معجزہ جدید کی کچھ بھی ضرورت ہے اس لئے ہم معجزہ کے لئے نہ کچھ حاجت اور نہ استطاعت اپنے اندر دیکھتے ہیں ۔
اقول ۔ صاحبِ من میں نے معجزہ کا لفظ اپنے خط میں استعمال نہیں کیا بیشک معجزہ دکھلانا نبی اور مرسل من اللہ کا کام ہے نہ ہر یک انسان کا لیکن اس بات کو تو آپ مانتے اور جانتے ہیں کہ ہر ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور ایمانداری کے پھلوں کا ذکر جیسا کہ قرآن کریم میں ہے انجیل شریف میں بھی ہے مجھے اُمید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہو ں گے اس لئے طول کلام کی ضرورت نہیں ۔ مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمانداری کے پھل دکھلانے کی بھی آپ کو استطاعت نہیں ۔
قولہ ۔ بہرکیف اگر جناب کسی معجزہ کے دکھلانے پر آمادہ ہیں تو ہم اسکے دیکھنے سے آنکھیں بند نہ کرینگے اور جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس ؔ کو اپنا فرض عین سمجھیں گے ۔
اقول ۔ بیشک یہ آپ کا مقولہ انصاف پر مبنی ہے اور کسی کے مُنہ سے یہ کامل طور پر نکل نہیں سکتا جب تک اُس کو انصاف کا خیال نہ ہو لیکن اس جگہ یہ آپ کا فقرہ کہ جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی ہم آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے تشریح طلب ہے یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیاہے کہ تا یہ