گو میرے نزدیک چنداں ضروری نہیں مگر تاہم وہ بھی مجھے منظور ہے لیکن ساتھ اسکے یہ ضروریات سے ہوگا کہ ہر یک چھ دن کی میعاد کے ختم ہونیکے بعد بطور متذکرہ بالا مجھ میں اور فریق مخالف میں مباہلہ واقع ہو گا اور یہ اقرار فریقین پہلے سے شائع کردیں کہ ہم مباہلہ کریں گے ۔ یعنی اس طور سے دعا کرینگے کہ اے ہمارے خُدا اگر ہم دجل پر ہیں توفریق مخالف کے نشان سے ہماری ذلّت ظاہر کراوراگر ہم حق پر ہیں تو ہماری تائید میں نشان آسمانی ظاہر کر کے فریق مخالف کی ذلّت ظاہر فرما اور اس دُعا کے وقت دونوں فریق آمین کہیں گے اور ایک سال تک اسکی میعاد ہوگی اور فریق مغلوب کی سزا وہ ہوگی جو اوپر بیان ہو چکی ہے ۔
اور اگر یہ سوال ہو کہ اگر ایک سال کے عرصہ میں دونوں طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہو یادؔ ونوں طرف سے ظاہر ہو تو پھر کیونکر فیصلہ ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راقم اس صورت میں بھی اپنے تئیں مغلوب سمجھے گا اور ایسی سزا کے لائق ٹھہرے گا جو بیان ہو چکی ہے چونکہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اور فتح پانے کی بشارت پا چکا ہوں ۔ پس اگر کوئی عیسائی صاحب میرے مقابل آسمانی نشان دکھلاویں یا میں ایک سال تک دکھلا نہ سکوں تو میرا باطل پر ہونا کھل گیا اور اللہ جلّ شانہٗ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور پر اللہ جلّ شانہٗنے اپنے الہام سے فرمادیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلاتفاوت ایسا ہی انسان تھا جس طرح اور انسان ہیں مگر خداتعالیٰ کا سچا نبی اور اُس کا مرسل اور برگزیدہ ہے اور مجھ کو یہ بھی فرمایا کہ جو مسیح کو دیا گیا وہ بمتابعت نبی علیہ السلام تجھ کو دیا گیا ہے اور تو مسیح موعود ہے اور تیرے ساتھ ایک نورانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کرے گا اور یکسر الصلیب کا مصداق ہو گا پس جبکہ یہ بات ہے تو میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہوتو پھر میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں سو آج میں ان تمام باتوں کو قبول کر کے اشتہار دیتا ہوں ۔ اب بعد شائع ہونے اس اشتہار کے مناسب