جس کے لئے ۱۲ دن امرتسر میں ٹھہرنا ضروری ہے کیا ہوگا ۔ ان وجوہات کے خیال سے ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ خط رجسٹرڈ یہ صلاح دی گئی تھی کہ مناسب ہے کہ چھ دن کے بعد یعنی جب فریقین اپنے اپنے چھ دن پورے کر لیں تو ان میں مباہلہ بھی ہو اور وہ صرف اس قدر کافی ہے کہ فریقین اپنے مذہب کی تائید کے لئے خداتعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کی میعاد قائم ہو پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہوسکے تو لازم ہوگا کہ فریق مغلوب اس فریق کا مذہب اختیار کرلے جس کو خداتعالیٰ نے اپنے آسمانی نشان کے ساتھ غالب کیا ہے اور مذہب اختیار کرنے سے اگر انکار کرے تو واجب ہوگا کہ اپنی نصف جائداد اس سچے مذہب کی امداد کی غرض سے فریق غالب کے حوالہ کردے یہ ایسی صورت ہے کہ اس سے حق اور باطل میں بکلی فرق ہو جائے گا کیونکہ جب ایک خارق نشان کے مقابل پر ایک فریق بالمقابل نشان دکھلانے سے بکلّی عاجز رہا تو فریق نشان دکھلانے والے کا غالب ہونا بکلی کھل جائے گا اور تمام بحثیں ختم ہو جائیں گی اور حق ظاہر ہو جائیگا لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ گذرتا ہے جو آج تک جو ۳ ؍مئی ۱۸۹۳ء ؁ہے ڈاکٹر صاحب نے اس خط کا کچھ بھی جواب نہیں دیا لہٰذاؔ اس اشتہار کے ذریعہ سے ڈاکٹر صاحب اور انکے تمام گروہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جس حالت میں انہوں نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہوجائے اور یہ بات کھل جائے کہ سچااور قادر خدا کس کا خدا ہے تو پھر معمولی بحثوں سے یہ اُمید رکھنا طمع خام ہے اگر یہ ارادہ نیک نیتی سے ہے تو اس سے بہتر اور کوئی بھی طریق نہیں کہ اب آسمانی مدد کے ساتھ صدق اور کذب کو آزمایا جائے اور میں نے اس طریق کو بدل و جان منظور کرلیا ہے اور وہ طریق بحث جو منقولی اور معقولی طور پر قرار پایا ہے