پولٹیکلؔ نکتہ چینی کا جواب مؤ ّ لف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے ۔ مؤ ّ لف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جبکہ ہم قطبی اور شرح ملّا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب اُس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے اِسلئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم اُن کے حا لا ت و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔ گورنمنٹ انگلشیہ کی مخالفت کا خیال کبھی مؤلف کے آس پاس بھی نہیں پھٹکا۔ وُہ کیا اُن کے خاندان میں اِس خیال کا کوئی آدمی نہیں ہے بلکہ اُن کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ نے عین زمانہ طوفان بے تمیزی (غدر۱۸۵۷ ؁ ء) میں گورنمنٹ کا خیر خواہ جان نثار وفادار ہونا عملًا بھی ثابت کر دکھایا۔ اِس غدر میں جبکہ ترموں کے گھاٹ پر متصل گورداسپورہ مفسدین بد طینت نے یورش کی تھی ان کے والد ماجد نے باوجودیکہ وُہ بہت بڑے جاگیر دار و سردار نہ تھے اپنی جیب خاص سے پچاس گھوڑے معہ سواران و سازو سامان طیارکر کے زیر کمان اپنے فرزند دلبند مرزاغلام قادر مرحوم کے گورنمنٹ کی معاونت میں دیئے جِس پر گورنمنٹ کی طرف سے ان کی اس خدمت پر شکریہ ادا ہوا اور کسی قدر انعام بھی ملا۔ علاوہ براں اِن خدمات کے لحاظ سے مرزاصاحب مرحوم (والدمؤ ّ لف ) ہمیشہ مورد کرم و لطف گورنمنٹ رہے اور در بار گورنری میں عزّت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی رہی اور حکّامِ اعلیٰ ضلع و قسمت (یعنی صاحبان ڈپٹی کمشنر وکمشنر) (چٹھیات خوشنودی مزاج ) جن میں سے کئی چٹھیات اس وقت ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہیں وقتًا فوقتًا ان کو عطاکرتے رہے ہیں ۔ اِن چٹھیات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بڑے دِلی جوش سے لکھی گئی ہیں جو بغیر ایک خاص خیر خواہ اور سچّے وفادار کے کسی دُوسرے کے لئے تحریر نہیں ہو سکتیں۔ اکثر صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر ایّام دَورہ میں از راہ خوش خلقی و محبّت و دِلجوئی مرزا صاحب کے مکان پر جاکر ملاقات کرتے رہے اور ان کی وفات پر صاحبان کمشنر و فنانشل کمشنر اور صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر