عاجز کی نسبت گورنمنٹ ؔ کو پہنچاتا ہے طلب کر کے اس بات کا ثبوت مانگے کہ اس نے کن دلائل اور وجوہ سے اِس عاجز کو گورنمنٹ انگریزی کا مفسد قرار دیا ہے اور اگر وہ دلائل شافیہ بیان نہ کر سکے تو پھر جس قدر مناسب ہو قانونی سزا کا اس کو کچھ مزہ چکھا دیوے کہ یہ ایک عین مصلحت اورایک سچّے خیر خواہ خاندان کی اس میں دلجوئی متصوّر ہے اگرچہ ایسے جوش بعض مخالفین مذہب کی تحریرات میں بھی پائے جاتے ہیں جیسے پادری عمادالدین وغیرہ وغیرہ ۔ مگر وہ بباعث ناواقفیّت اور جوش مذہب اور لا علاج تعصّب کے کسی قدر معذور بھی ہیں اور حق بات کو منہ سے نہیں نکال سکتے مگریہ شیخ بٹالوی درحقیقت حد سے گذرگیا ہے۔ عادل گورنمنٹ اس شخص کی تحریرات ۹۲249۱۸۹۳ ء کے ساتھ اِن تحریرات کو بھی دیکھے جو ۱۸۸۴ ء میں اِس شخص کے اشاعۃ السنۃ میں اس عاجز کی نسبت موجود ہیں تا معلوم ہو کہ یہ شخص منافق اور حق پوش اور دو رنگی اختیار کرنے والا ہے اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ زیرک اور دانا اور عادل اور وسیع واقفیّت والی گورنمنٹ کے آگے ایسی مکّاریاں چل نہیں سکتیں اور یہ عمیق اندیش گورنمنٹ دور سے ہوا کا رُخ دیکھ لیتی ہے اور متعصبانہ مخبریوں کو حقیر اور شرمناک حسد یقین کر جاتی ہے لیکن تاہم گورنمنٹ پر کوئی وحی تو نازل نہیں ہوتی اور ممکن ہے کہ چند شر یروں کے یک زبان ہونے سے ایسا دھوکا لگے جو انسان کو لگ سکتا ہے اس لئے ہماری طرف سے کسی قدر عرض حال ضروری تھا۔
اب ہم گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے ۱۸۸۴ ء کے اشاعۃ السنہ یعنی نمبر ۶ جلد ۷ سے جو براھین احمدیہ پرریویو ہے کسی قدر عبارت اس شخص کے رسالہ مذکورہ کی گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے نقل کرتے ہیں تادانا گورنمنٹ خود ملاحظہ فرمالیوے کہ اس شخص نے اس عاجز کی نسبت پہلے کیا لکھا تھا اور اب کیا لکھتا ہے۔
اور وہ عبارت یہ ہے