میں تو دِلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خداتعالیٰ نے اِس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکرکرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزّز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اِس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اورخیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجُز دعا کے اور کیا ہے۔سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ اِس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اِس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خُدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدا ئے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسری کا چھوڑنا لازم آجاتا ہے بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اِس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال اُن کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اورواجب ہے اُس سے جہاد کیسا۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک ّ*** اور بَد کار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو مَیں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دُوسرے اِس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے اگرچہ یہ سچ ہے کہ ہم یورپ کی قوموں کے ساتھ اختلافِ مذہب رکھتے ہیں اور ہم ہرگز خدا تعالیٰ کی نسبت وہ باتیں ؔ پسند نہیں رکھتے جو اُنھوں نے پسند کی ہیں۔ لیکن اِن مذہبی امورکو رعیّت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کچھ علاقہ نہیں۔