خد اتعالیٰ ہمیں صاف تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کرو اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بنے رہو سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اوررسول سے سرکشی کرتے ہیں اِس صورت میں ہم سے زیادہ بد دیانت کون ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قانون اور شریعت کو ہم نے چھوڑ دیا۔ اِ س سے انکار نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہبی تعصّب اُن کے عدل اور انصاف پر غالب آگیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جہالت سے ایک ایسے خونخوارمہدی کے انتظار میں ہیں کہ گویا وہ زمین کو مخالفوں کے خون سے سُرخ کردے گا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اِسی غرض سے اتریں گے کہ جو مہدی کے ہاتھ سے یہود ونصاریٰ زندہ رہ گئے ہیں اُن کے خون سے بھی زمین پر ایک دریا بہا دیں لیکن یہ خیالات بعض مسلمانوں مثلًا شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کی جماعت کے سرا سر غلط اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ۔ یہ نادان خون پسند ہیں اور محبت اور خیر خواہی خلق اللہ کی سرمُواِن میں نہیں لیکن ہمار ا سچا اور صحیح مذہب جس پر ہمیں یہ لوگ کافر ٹھہراتے ہیں یہ ہے کہ مہدی کے نام پر آنے والا کوئی نہیں ہاں مسیح موعود آگیا مگر کوئی تلوار نہیں چلے گی اور امن سے اور سچائی سے اور محبت سے زمانہ توحید کی طرف ایک پلٹا کھائے گااور وُہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جاوے گا نہ کرشن اورنہ حضرت مسیح علیہ السلام۔ اور سچے پرستار اپنے حقیقی خدا کی طرف رُخ کرلیں گے اور یاد رہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ ہم باامن زندگی بسر کریں اُس کے حقوق کو نگاہ رکھنا فی الواقعہ خدا کے حقوق ادا کرنا ہے اور جب ہم ایسے بادشاہ کی دِلی صدق سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اُس وقت عبادت کر رہے ہیں۔ کیا اسلام کی یہ تعلیم ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے محسن سے بدی کریں اورجو ہمیں ٹھنڈے سایہ میں جگہ دے اُس پر آگ برساویں اور جو ہمیں روٹی دے اُسے پتھر ماریں ایسے انسان سے اور کون زیادہ بد ذات ہو گا کہ جو احسان کرنیوالے کے ساتھ بدی کا خیال بھی دِل میں لاوے۔