چنانچہ منجملہ اُن کے مسٹر گریفن ہیں جنہوں نے رئیسان پنجاب کے بارہ میں ایک کتاب بھی لکھی ہے اور اس میں میرے والد صاحب کا بھی خیر اور خوبی سے ذکر کیا ہے ۔ اب میری حالت یہ ہے کہ بعد وفات پا جانے اِن عزیزوں اور بزرگوں کے خُداتعالیٰ نے میرے دِل کو دُنیا سے پھیر دیا اور مَیں نے چاہا کہ خدا تعالیٰ سے میر امعاملہ کامل طور کی سچائی اور صدق اور محبّت سے ہو۔ سو اُس نے میرے دِل کو اپنی محبت سے بھر دیا مگر نہ میری کوشش سے بلکہ اپنے فضل سے۔ تب مَیں نے چاہا کہ جہاں تک میرے لئے ممکن ہے معرفت اور محبت الٰہی میں ترقی کروں اور صحیح طورپر معلوم کروں کہ خدا کون ہے اور اس کی رضا کن باتوں میں ہے سَو میں نے ہر یک تعصب سے دِل کو پاک کیا اور ہر یک آلودگی سے آنکھ کو صاف کرکے دیکھا اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہی تب میرے پر کھل گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے پاک الہام سے مجھے آگاہی بخشی کہ خُدا وہ ذات ہے جو اپنی تمام صفات میں کامل ہے اور ازل سے ایک ہی رنگ اور ایک ہی طریق پر چلا آتا ہے نہ اس میں حدوث ہے نہ وہ پَیدا ہوتا ہے نہ مَرتا ہے اور کوئی پیدا ہونے والا اور مرنے والا بجُز عبودیت کے کوئی ایسا تعلق اس سے نہیں رکھتا جسے کہا جائے کہ وُہ اُس کی خُدا ئی کا حصّہ دار ہے بلکہ ایسا خیال کرنا اُس ذات کے انکار سے بھی بدتر اور انسان کی تمام بدکاریوں سے بڑھ کر ایک سخت درجہ کا بُر اخیال ہے۔ یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے سب سے زیادہ مرتبہ پر وہ لوگ ہیں جن کا نام نبی یا رسُول ہے بے شک وہ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں مقبول ہیں نہایت درجہ کے عزت دار ہیں اسی میں کھوئے گئے اور اُسی کا رُوپ بن گئے اور خُدا تعالیٰ کا جلال اُن میں سے ظاہر ہؤا اور خُدا اُن میں اور وُہ خدا میں مگر تاہم اُن میں سے ہم حقیقتًا نہ کسی کو خدا کہہ سکتے ہیں اور نہ خدا کا بیٹا بلاشبہ اِس اختلاف میں مُسلمان حق پر ہیں اور عیسائی غلطی پر۔ مگر یہ غلطی اِس زمانہ میں عیسائیوں میں قائم رہنے والی نظر نہیں آتی انگریز ایک ایسی قوم ہے جن کو خدا تعالیٰ دن بدن اقبال اور دولت اور عقل اور دانش کی طرف کھینچنا چاہتا ہے اور جو سچائی اورؔ راستبازی اور انصاف میں روزبروز ترقی کرتے جاتے ہیں اورعلوم جدیدہ اورقدیمہ کا تو گویا ایک چشمہ ہیں اسلئے اُمید قوی ہے کہ خدا تعالیٰ یہ دولت بھی اِنھیں دیگا بلکہ میری دانست