گورؔ نمنٹ کی توجّہ کے لائق
یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گذارش کرتا ہے کہ بباعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں اس لئے نہ کسی تکلّف سے بلکہ میرے رگ و ریشہ میں شکر گذاری اِس معزّر گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اِس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجا لائے۔ اُنہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گذاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچّے دِل اور تہِ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔ سن ستاو۵۷ن کے مفسدہ میں جبکہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیاتب میرے والد بزرگوار نے پچا س گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اورپچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چود۱۴ہ سوار سے خدمت گذاری کی اور انہیں مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے چنانچہ جناب گورنر جنرل کے دربار میں عزّت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی تھی اور ہر یک درجہ کے حکام انگریزی بڑی عزّت اور دلجوئی سے پیش آتے تھے انھوں نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گذاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی تمام عمر نیک نامی کے ساتھ بسر کر کے اِس ناپائدار دُنیا سے گذر گئے بعد اِس کے اِس عاجز کا بڑا بھائی میرزا غلام قادر جس قدر مدّت تک زندہ رہا اُس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر قدم مار ا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں ؔ بدل و جان مصروف رہا پھر وہ بھی اِس مسافرخانہ سے گذر گیا۔ مَیں امید رکھتا ہوں کہ اَب بھی بہت سے حکّام انگریز بقید حیات ہوں گے جنھوں نے میرے والد صاحب کو دیکھا اور اُنکی مخلصانہ خدمات کو بچشم خود مشاہدہ کیا ہے