ہیںؔ خدائی کلام اور الٰہی قدرتیں اُن کی نظرمیں ہنسی کے لائق ہیں ۔ ایسا ہی میاں عطا محمد کا حال ہے مجھے یادہے کہ جب بمقام امرت سر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو ان کی موت کی نسبت پیشگوئی سُنائی گئی تو میاں عطا محمد نے میرے فرود گا ہ میں آکر میر ے رُوبرو ایک مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک ڈاکٹر نے میری موت کی خبر دی تھی کہ اتنی مدّت میں عطا محمد فوت ہو جائے گا مگر وہ مدّت خیر سے گذر گئی اور مَیں نے اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو سلام کیااُس نے کہا کہ تُو کون ہے۔ مَیں نے کہا وہی عطا محمد جس کے مرنے کی آپ نے پیشگوئی کی تھی ۔ مطلب یہ کہ یہ تمام اُمور جُھوٹ اورلغو ہیں۔ مگر میاں عطا محمد کو یاد رہے کہ ڈاکٹر کی مثال اس جگہ دینا صرف اس قدر ثابت کرتا ہے کہ آسمانی روشنی سے آپ بکلّی بے خبر ہیں بیشک ایک ہستی موجود ہے جس کانام خدا ہے اور وُہ اپنے سچّے مذہب کی تائید میں نہ صرف کسی زمانہ محدود تک بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقت میں آسمانی نشان دکھلاتا ہے اور دنیا کا ایمان نئے سرے قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی مثال سے ظاہر ہے کہ آپ کا اُس خدا پر ایمان کِس قدر ہے۔ اَب مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس رسالہ کو اِسی جگہ ختم کردوں۔ فَالحَمْدُ لِلّٰہِ اَوَّلًا وَاٰخِرًا وَظَاہِرًا وبَاطِنًا ھُوَ مَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔ المؤلّف عاجز غلام احمدقادیانی ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۳ ؁ ء مقام قادِیان روزِ جُمعہ