انسان کے اختیارؔ میں ہو بلکہ محض اللہجلّ شانہ‘کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو اِن پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے ۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں سے تعلّق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وُہ پیشگوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اِس کے اجزاء یہ ہیں (ا) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اُس کا جو اس کی دُختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اورپھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تا ایّام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اورپھر یہ کہ یہ عاجز بھی اِن تمام واقعات کے پُورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اورپھر یہ کہ اِس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔
اور اگر اب بھی یہ تمام ثبوت میاں عطا محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلّی اِن اُمور سے نہیں ہُوئی اور مَیں ابھی تک افترا سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو مَیں انشاء اللہ القدیر اُن کے بارہ میں توجہ کروں گا اورمَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کرے گا کیونکہ مَیں اُس کی طرف سے ہوں اور اُسکے دین کی تجدید کیلئے اُس کے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہیئے کہ وہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجاز ت دیں کہ جس طور سے مَیں ان کے حق میں الہام پاؤں اس کو شائع کرا دوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدّد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہیئے یہ پیچ و تاب کیوں ہے اور کیوں ان کو بُرا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حُجّت پُور ی کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہایت ردّی ہو گئی ہے اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے ان کے اعتقاد کی بیخ کنی کر دی ہے ان کی زبانوں پر بے شک اسلام ہے لیکن دل اسلام سے بہت دُورجا پڑے