سو اس کا جواب اسلام کی حقانیت کا ثبوت دینا ہے نہ ؔ یہ کہ لوگوں پر تلوار چلانا۔ لہٰذا خداتعالیٰ نے مُسلمانوں کی حالت کے ہم رنگ پا کر ان کے لئے حضرت مسیح کی مانند بغیر سیف و سنان کے مصلح بھیجا اور اُس مصلح کو دجّالیت کے دُورکرنے کے لئے صرف آسمانی حربہ دیا اورجیسا کہ عیسیٰ عند منارۃ دمشق کے لفظوں سے چودہ سو کاعد د مفہوم ہوتا ہے وہ مسیح موعو د چودھویں صدی کے سرپر آیا اور جیسا کہ3 ۱ کے عدد سے ۱۲۷۵ نکلتے ہیں اِسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے طیار کیاگیا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم نے بشارت دی کہ امواج فتن نصاریٰ کے وقت میں نفخ صور ہو گا ایسا ہی اُس کاظہور ہؤا اور کئی بندگان خدا نے الہام پا کر اُسکے ظہور سے پہلے اُسکے آنے کی خبردی بلکہ بعض نے بتیس برس پہلے اُس کے ظہور سے اُسکا نام بتلایا اور یہ کہا کہ مسیح موعود وُہی ہے اور اصل عیسیٰ فوت ہو چکا ہے اور بہت سے صاحب مکاشفات نے چودھویں صدی کو مسیح موعود کے آنیکا زمانہ قرار دیا اور اپنے الہامات لکھ گئے۔ اَب اِس کے بعد ایسے اُمور میں جن میں ایمان بالغیب کی بھی کچھ گنجائش رکھ لینی چاہیئے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔
پھر ما سوا اِس کے بعض اور عظیم الشّان نشان اِس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبد اللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۵ ِ جون ۱۸۹۳ ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرز ا احمدؔ بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹّی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ۱۸۹۳ ء ہے قریبًا گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالا تر ہیں ایک صادق یاکاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں کیونکہ احیا اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اُس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا خصوصًا ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اُس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو