کاؔ مصداق ہیں اور اسلام کی دینی دنیوی حالت ایسی ہی ابتر ہو گئی ہے جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی حالت ابتر تھی اور جیسا کہ مسیح ایسے وقت میں آیا کہ اُس وقت دین کے لئے تلوار اُٹھانا بالکل نامناسب تھا وجہ یہ کہ یہودی اپنی بد چلنی سے اپنے مُلک کو کھو بیٹھے تھے اور رومی سلطنت کا ملک گیری میں کچھ قصور نہ تھا تا اُن پر تلوار اُٹھائی جاتی۔ یہی حال آج کل ہے کہ مُسلمانوں کے بادشاہوں نے آپ بے اعتدالیاں کرکے اور نالائق عیشوں میں مبتلا ہو کر اپنا ملک کھویا بلکہ اُن میں مُلک داری کی لیاقت ہی باقی نہ رہی سو خداتعالیٰ نے انگریزوں کو ملک دیا اور انہوں نے ملک لے کر کچھ ظلم نہ کیا۔ کسی کا نماز روزہ بند نہ کردیا۔ کسی کو حج جانے سے منع نہ کیا۔ بلکہ عام آزادی اور امن قائم کیا۔ پھر اُن پر باوجودمحسن ہونے کے کیونکر خدا ئے کریم و رحیم تلوار اُٹھانے کا فتویٰ دیتا کیااس کے پاس دین پھیلانے کا ذریعہ صرف ظاہری تلوار تھی رُوحانی تلوار نہ تھی پھر اس پرُ طرہ یہ کہ اِس وقت تلوار کا ایمان کچھ معتبر نہیں انگریزوں نے تلوار سے کسی کو اپنے مذہب میں داخل نہیں کیا تا تلوار کاجواب تلوار ہوتا بلکہ لوگ نئے فلسفہ اور نئے طبعی اور پادریوں کے وساوس سے ہلاک ہوئے
نبی کی رُوح کی سرایت سے پرواز کرتے تھے ورنہ حقیقی خالقیت کے ماننے سے عظیم الشان فساد اور شرک لازم آتا ہے۔ غرض تو معجزہ سے ہے اور بے جان کا باوجودبے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے۔ ہاں اگر قرآن کریم کی کسی قرأت میں اس موقعہ پر فیکون حَیًّاکا لفظ موجود ہے یا تاریخی طور پرثابت ہے کہ درحقیقت وہ زِندہ ہوجاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک اُن کی نسل سے بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دُنیا چاہے کہ ایک مکّھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ اِس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذن دے رکھا تھا یہ خدا تعالیٰ پر افترا ہے کلام الٰہی میں تناقص نہیں خدا تعالیٰ کسی کو ایسے اذن نہیں دیا کرتا۔ اللہ تعالےٰ نے سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکّھی بنانے کا بھی اذن نہ دیا۔ پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذن کیونکر حاصل ہوا۔ خداتعالیٰ سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔ منہ