دعوتِ اسلام کے اشتہار اور خطوط بھیجے گئے جن کی رسیدیں ابتک موجودہیں۔ اِ ن اشتہارات میں جن کے شائع کرنے پر قریبًا عرصہ دس۱۰ برس کا گذر چکا ہے یہ بھی لکھا گیا تھا کہ یہ عاجز حضرت مسیح ابن مریم سے ان کے کمالات میں مشابہ ہے او ر سوچنے والے کے لئے یہ ایک اور دلیل اس عاجز کی سچائی پر ہے کیونکہ اگر مثیل مسیح ہونے کادعویٰ صرف انسان کامنصوبہ ہوتا اور خداتعالیٰ کی طرف سے الہام نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ مسیح موعود کے دعویٰ کرنے سے دس۱۰ برس بلکہ بارہ برس پہلے اُس دعویٰ کے مؤید متواتر الہامات اپنی طرف سے شائع کئے جاتے کیونکہ ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ عادتًا انسان میں اتنی پیش بندیوں کی طاقت نہیں کہ جو کام یا دعویٰ ابھی بارہ برس کے بعد ظہور میں آنا ہے پہلے ہی سے اُس کی بنیاد قائم کی جائے اور پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خداتعالیٰ ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دیدے جسے آج تک بارہ برس گذر چکے ہوں اور مُفتری ایسا اپنے افتراء میں بیباک ہو جس نے پہلے ہی سے ارادہ کیا ہو جو بارہ برس کے بعد ایسا دعویٰ کرونگا اور اس دعویٰ کی بنیاد بارہ برس پہلے ہی یہ رکھی ہو کہ مَیں ضرور مثیل مسیح ہوں اور نہ صرف یُونہی بلکہ الہام کے حوالہ سے اپنے تئیں مثیل مسیح قرار دیا ہو اور کمالات میں اُس کے مشابہ اپنے تئیں ٹھہرایا ہو اور اُس کے جوہر ذاتی کا ایک ٹکڑا اپنے تئیں سمجھا ہو اورپھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ علانیہ اور واشگاف طور پر بارہ برس پہلے اپنے دعویٰ مسیح ہونے سے اپنی کتاب میں (یعنی براہین احمدیہ میں ) یہ شائع کیا ہو کہ خد اتعالیٰ نے میرانام عیسیٰ رکھ دیا ہے اور مجھ کو وعدہ دیا ہے کہ مَیں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا اور پھر اپنی طرف تجھے اُٹھا لوں گا اور منکروں کے تمام الزاموں سے تجھے بَری کروں گا اور تیرے تابعین کو قیامت تک تیرے دشمنوں پر غالب رکھوں گا اور خُداتعالیٰ اُس کو نہ صرف مُہلت بلکہ الہامی نشانوں سے اُس کی مدد بھی کرے اور اُس کے لئے ایک جماعت طیار کر دے حالانکہ وہ خودقرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں مفتری کو مدد نہیں دیتا اور وہ جلد ہلاک کیاجاتا ہے اور اُس کی جماعت متفرق کی جاتی ہے بلکہ سید الرسل کو اُس نے کہا کہ اگر تو ایکؔ ذرہ افترا کرتا تو تیری شاہ رگ کاٹ دی جاتی۔ پس اگر یہ بات سچ