نہیں ہے کہ خداتعالیٰ مفتری کو جو جھوٹا مرسل بن کر خلق اللہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے بہت جلد پکڑ لیتا ہے تو اِس صُورت میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہ استدلال صحیح نہیں ہوسکتا کہ اگر آنحضرؐت نعوذ باللہ مُفتری ہوتے تو خدا تعالیٰ ان کو پکڑتا پھر باوجوداِس لمبی مہلت اور خد اتعالیٰ کی صدہا تائیدوں اور صدہا نشانوں کے مخالفوں نے بھی اِس عاجز پر نزول عذاب کے لئے ہزار ہا دُعائیں کیں اور اپنے مباہلہ میں بھی رو رو کر اِس عاجز پرعذاب نازل ہوناچاہا مگر بجُز رسوائی اور ذلّت کے اُن کو کچھ بھی نصیب نہ ہؤا اور اللہ جلّ شانہ‘جانتا ہے کہ ہم نے کسی مباہلہ میں کسی دشمن پر عذاب نازل ہونا نہیں چاہا اور نہ عبد الحق غزنوی کے لئے جس نے بمقام امرتسر مباہلہ کیا تھا اُس کی موت کے لئے بد دُعا کی مگر اُس نے بہت کچھ جزع فزع کیا اور ہمارا مدعامباہلہ سے یہی تھااور اب تک یہ ہی ہے کہ آسمانی نشانیاں اِ س عاجز کی تائید میں عام طور پر ظاہر ہوں اور مخالف مباہل کی ذلّت اور رُسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہو گا کہ خداتعالیٰ ہر ایک مقام میں ہماری فتح ظاہر کرے۔ غرض یہ تمام صداقت کے نشان ہیں مگر اُس کے لئے جو غور کرے۔ افسوس کہ مجھ سے بار بار پُوچھا جاتا ہے کہ تمہارے دعویٰ مسیح موعود ہونے پر دلیل کیا ہے مگر ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے موعو د ہونے پر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیّین موعودہونے پر کیا دلیل تھی۔ کیا یہی نہ تھی کہ بہت سے نشانوں سے خداتعالےٰ نے اُن کا صادق ہونا ثابت کر دیا اور حضرت مسیح کو گو یہودیوں نے قبول نہ کیا اور آج تک یہی کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود نہ تھا مگر اُن کے معجزات اور نشانوں سے ان کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہو گیا*ضروری مطالبہ توصادق اور منجانب اللہ ہونے پر ہوتا ہے اور مثیلیت ؔ کا ثبوت