کرے۔ او راگرہم خطاپر نکلیں تو ہم سے بحساب دو سو روپیہ ماہواری ہرجانہ اپنے ایک برس کا لے لے ورنہ ہم اُس سے کچھ نہیں مانگتے صرف دینِ اسلام قبول کرے اور اگر چاہے تو اپنی تسلّی کے لئے وُہ روپیہ کسی بینک میں جمع کر الے لیکن کسی نے اِس طرف رُخ نہ کیا۔ اَب ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی نصرت پر ایسا کامل یقین نہ رکھتا کہ جو متواتر مشاہدات اور ذاتی تجار ب کے بعد ہوتاہے تو کیونکر ممکن ہوتاکہ اسلام کے تمام مخالفوں کے مقابل پر یعنی اُن لوگوں کے مقابل پر جو رُوئے زمین پرنامی مخالف مذہب اور اپنی قوموں کے مقتدیٰ تھے اکیلا کھڑا ہو جا تا ظاہر ہے کہ ضعیف البنیان انسان اپنے نفس میں ہرگزایسی طاقت نہیں رکھتا کہ سارے جہان کا مقابلہ کر سکے پھر بجُز اپنے کامل یقین اور ذاتی تجارب کے اور کیاچیزتھی جس نے اِس پیش قدمی کے لئے اِس عاجز کو جُرأت بخشی اور نہ صرف زبانی بلکہ 3 دو ہزار روپیہ کے قریب ان اشتہارات کے طبع میں جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے تھے اور ایسا ہی اُن کی روانگی میں جو ہندوستان اور یورپ کے مُلکوں کی طر ف رجسٹری کر اکر خط بھیجے جاتے تھے خرچ ہوا مگر کسی کو جُرأت نہ ہوئی کہ مقابل پر آوے اور دشمنوں کے دلوں پر ہیبت پڑنا یہ بھی ایک نشان تھا۔ اِمتحان کے طور پر اِس زمانہ کے کسی پادری صاحب وغیرہ کو پوچھ کر دیکھو کہ کیا دعوت اسلام کیلئے رجسٹری شدہ خط اُن کے پاس نہیں پہنچا۔ پھر سوچ لو کہ جو شخص کئی ہزار روپیہ صرف اشتہارات کے طبع اور اُنکے مصارف روانگی میں خرچ کرے اور دشمن کے لئے ایک رقم کثیر بطور انعام بصورت فتح دشمن مقرر کرے کیا عند العقل ایسے شخص کا صرف جُھوٹ اورکذب اورافتراء پر مدار ہو سکتا ہے کیا آج تک دُنیا میں کوئی ایسا مفتری کتابوں میں پڑھاگیا یا سناگیا یا دیکھا گیا بھلا کوئی نظیر تو دو۔ عزیزو! یقینًا سمجھوکہ جب تک خُدا کسی کے ساتھ نہ ہو یہ استقامت اور یہ شجاعت اور یہ بذل مال ہرگز وقوع میں آہی نہیں سکتے کبھی کسی نے اِس زمانہ کے کسی مولوی کو دیکھا یا سنا کہ اُس نے دعوتِ اسلام کے لئے کسی اسسٹنٹ کمشنر انگریز کی طرف ہی کوئی خطؔ بھیجا لیکن اس جگہ نہ صرف اس قدر بلکہ پارلیمنٹ لنڈن اور شاہزادہ ولی عہد ملکہ معظمہ اور شہزادہ بسمارک کی خدمت میں بھی