آجاتے ہیں۔د یکھو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں پر ظاہر کیا کہ مَیں مثیل موسیٰ ہوں اور خد اتعالیٰ کا رسول ہوں تو جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت ہو گئی ۔ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل موسیٰ ہونے میں بھی شک نہ رہا اور جیسا وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے ایسا مثیل ہونے پر لائے سومنجانب اللہ اور سچّے ملہم ہونے کا ثبوت تمام ثبوتوں کی جڑ ہے مثلًا نبی پر جو کتاب نازل ہوتی ہے اُس کے فقرہ فقرہ کا ثبوت کوئی نہیں مانگتا بلکہ رسالت کے ثابت ہونے سے خود وہ تمام واقعات ثابت ہو جاتے ہیں۔ عزیزو! یہ بات تو نہیں کہ خد اتعالیٰ میرے لئے کوئی نرالا قانون بنانا چاہتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے قدیم قانون کو دیکھو اور اُس کے مطابق سوال کرو۔ پھر ماسوا اِس کے آج کی تاریخ تک جو گیارہ ربیع الاوّل ۱۳۱۱ ؁ھ مطابق بائیس ستمبر ۱۸۹۳ ؁ء اور نیز مطابق ہشتم اسوج سمت ۱۹۵۰ ۔ اور روز جمعہ ہے اِس عاجز سے تین ہزار سے کچھ زیادہ ایسے نشان ظاہر ہو چکے ہیں جن کے صدہا آدمی گواہ بلکہ بعض پیشگوئیوں کے پُورا ہونے کے تو ہزار ہا ہندو اور عیسائی اور دوسرے مخالف مذہب گواہ ہیں اور اگر تحقیق کی رُو سے دیکھو تو بعض نشان ایسے بھی ہیں کہ جنھیں لاکھ ہا دشمن دین اسلام اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہیں اور اب تک وہ لوگ زندہ موجود ہیں جنہوں نے بکثرت ایسے نشان ملاحظہ کئے جو اِنسانی طاقتوں سے بالا تر ہیں اور ایسے بھی صدہا موجود ہیں جنہوں نے دُعاؤں کے قبول ہونے کی پیش از وقت خبر سُنی اور پھر اِس امر کو جیساکہ بیان کیا گیا تھا ظاہر ہوتے بھی دیکھ لیا اور ایسے بھی سولہ ہزار کے قریب لوگ ہندوستان اور انگلستان اور جرمن اور فرانس اور روس اور روم میں پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں اور مجوسیوں کے پیشروؤں اور عیسائیوں کے پادریوں اور قسیسوں اور بشپوں میں سے موجود ہیں جن کو رجسٹری کر ا کر اِس مضمون کے خط بھیجے گئے کہ درحقیقت دُنیا میں دین اسلام ہی سچا ہے اور دُوسرے تمام دین ا صلیّت اور حقانیت سے دور جا پڑے ہیں کسی کو مخالفوں میںؔ سے اگر شک ہو تو ہمارے مقابل پر آوے اور ایک سال تک رہ کر دین اسلام کے نشان ہم سے ملاحظہ