راہ ؔ ہے اور وہ یہ کہ آسمانی نشانوں سے ایسا ثابت کر دیوے کہ خد اتعالیٰ اس کے ساتھ ہے اور وہ خداتعالیٰ کا مقبول ہے۔ اَب سوچو کہ اِس عاجز کی طرف سے مسیح موعود ہونے کادعویٰ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے دعوے سے کچھ بڑا نہیں ہے پھر ذر اغور کر لو کہ یہ تمام بزرگوار نبی کیونکر دُنیا میں تسلیم کئے گئے کیا بذریعہ آسمانی برکات اور تائیدات کے یا کوئی اور طریق تھا سو سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت میں تغییرو تبدیل نہیں اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افترا اور جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہیں ہو گا اور خدا تعالیٰ ذلّت کے ساتھ ہلاک کرے گا اور پھر ابدالدہر تک لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا کیونکہ اِس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں کہ ایک شخص کہے کہ مَیں منجانب اللہ بھیجا گیا ہوں اور دراصل نہیں بھیجا گیا اورکہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مشرف ہوں اور اس کا کلام میرے دِل پر اُترتا ہے اور میری زبان پر جاری ہوتا ہے حالانکہ نہ کبھی اس سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ واقع ہوا اورنہ کبھی خد اتعالیٰ کا کلام اُس کے دِ ل پر اُترا اور نہ کبھی اُس کی زبان پر جاری ہوا۔ الا لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین الذین یفترون علی اللّٰہ وھم فی الدنیا والاٰخرۃ من المخذولین۔
لیکن اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اُس نے مجھ کو بھیجا ہے اور اُسی کی طرف سے وہ کلا م ہے جس کا مجھ کو الہام ہوتا ہے تو مَیں ہرگز ضائع نہ کیا جاؤں گا اور مَیں ہلاک نہیں ہوں گا بلکہ خدا تعالیٰ اُسے ہلاک کرے گا جو میرے مقابل پر اُٹھے گا اور میر ا سدّ راہ ہو گا۔ مَیں متعجب ہوں کہ لوگ مسیح موعود کے لفظ کو کیوں عجیب سمجھتے ہیں اور اِس کا ثبوت کیوں مجھ سے مانگتے ہیں حالانکہ عند العقل یہ بات ممتنعات میں سے نہیں ہے کہ مسیح کی طرز پر اس اُمت میں بھی جو مثیل اُمت موسیٰ ہے کوئی پیدا ہو یہ بات فلاسفروں کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ وجود بنی آدم دَوری ہے اور یہی سنّت اللہ اور قانون قدرت سے ثابت ہوا ہے کہ اِس دُنیا میں بعض بعض کے شبیہ پیدا ہو جاتے ہیں نیکوں کے شبیہ بھی پَیدا ہوتے رہتے ہیں اور ؔ بدوں کے بھی۔ ہاں منجانب اللہ ہونے کا ثبوت مانگنا چاہیئے، اُس ثبوت کے ذیل میں تمام ثبوت