خد اتعالیٰ اپنی خاص مددوں سے اِس عاجز کی سچّائی کو ظاہر کر دے گا او اپنے خاص نشانوں سے دُنیا پر روشن کردؔ ے گا کہ یہ عاجز اُس کی طرف سے ہے نہ اپنے منصوبوں سے۔ پھر جس حالت میں آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے اپنے دعوے میں صادق ہونا ثابت ہوجائے تو پھر بعد اس کے کوئی وجہ انکار باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ آسمانی نشان وہ چیز ہے جس سے بڑی بڑی نبوتیں ثابت ہو گئی ہیں رسالتیں ثابت ہو گئیں ہیں کتابوں کا خُداتعالیٰ کاکلام ہونا ثابت ہوگیاہے۔ پھر ان کے ذریعہ سے مثیل مسیح ہونا کیوں کر ثابت نہ ہو سکے غرض خدا تعالیٰ جس طور سے اپنے صادق بندوں کی صداقت ثابت کرتا آیا ہے اُسی طور سے اِس عاجز کی صداقت بھی ثابت کرے گا۔ دیکھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوّت کے ماننے کے بارے میں کس قدر مشکلات یہودیوں کو پیش آگئی تھیں پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ عیسےٰ بادشاہ ہو کر آئے گا مگر مسیح ایک غریب مسکین کی صورت میں پیدا ہواپہلی کتابوں میں درج تھا کہ اُسکے آنے سے یہودیوں کے ایّام اقبال پھر عود کریں گے۔ اور یہودی اِس خیال میں لگے ہوئے تھے کہ وہ سلطنت رومیہ کے ساتھ لڑے گا اور اسرائیل کی بادشاہت کو پھر قائم کرے گا مگر معاملہ برعکس ہوا اور یہودی اور بھی مصیبت اور ذلّت میں پڑے۔ ایسا ہی پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ وُہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دُنیا میں نہ آلیوے اِس لئے یہودی منتظر تھے کہ ایلیا کب آسمان سے نازل ہوتا ہے لیکن ایلیا نازل نہ ہؤا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعویٰ کر دیا کہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور یہ بھی کہا کہ یحییٰ نبی ہی ایلیا ہے مگر یہ تاویل یہودیوں کی نظر میں پسندیدہ نہ تھی بلکہ وُہ اِسی طرح حضرت ایلیا کے نزول کے منتظر تھے جیسا کہ آجکل حضرت عیسیٰ کے نزول کے مسلمان منتظر ہیں لیکن باوجود اِن سب روکوں کے جو درحقیقت سخت روکیں تھیں خدا تعالیٰ نے اپنے سچّے نبی کو ضائع نہ کیا اور بہت سے نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وُہ صاد ق ہے جس سے بالضرورت نتیجہ نکالنا پڑا کہ مسیح موعود ہی ہے جو آخر سچا مانا گیا۔
سو عزیزو یقینًا سمجھو کہ صادق کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے خدا تعالیٰ کے قدیم قانون میں ایک ہی