کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ پھر اگر حدیث کے یہ معنی کئے جائیں گے کہ دوسو برس کے بعد علامات کُبریٰ شروع ہوں گی تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ دو سو برس کے بعد تو کوئی علامت شروع نہ ہوئی اِ س لئے علماءؔ نے اِس حدیث میں مِأتین سے مرادوہ دو۲۰۰ سو لیا ہے جو ہزار کے بعد آوے یعنی بارہ سو برس۔ اور اِس تاویل میں علماء حق پر ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ بڑے بڑے فتنے تیرھویں صدی میں ہی ظہور میں آئے اوردجّالیّت کا طوفان اِسی صدی میں پھیلا اور 3 ۱ کا تماشابھی اِسی صدی میں دیکھا گیا۔ صدہا اسلامی ریاستیں خاک میں مل گئیں اور نصاریٰ نے خوب بلندی حاصل کی۔
اور یہ تیسر اشق بحث طلب کہ اگر درحقیقت کوئی مسیح موعود اِس اُمت میں سے آنے والا ہے تو اِس پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح یہی عاجز ہے اِس کے بعض قرائنی دلائل تو ابھی ہم تحریر کر چکے ہیں حاجت اعادہ نہیں لیکن خاص طور کے دلائل اگر طلب ہوں تو سائل کو ذرہ صبر کرنا چاہیئے تا خود خداتعالیٰ اپنے بندے کی تائید میں دلائل نازل کرے اصل بات یہ ہے کہ ایسے دعاوی صرف معقولی یا منقولی دلائل سے کامل طور پر بپایۂ ثبوت نہیں پہنچ سکتے جب تک شخص مدعی کی برکات آسمانی تائیدات سے ثابت نہ ہوں اوریہی سنّت خدا تعالیٰ کی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جاری چلی آئی ہے مثلًا ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اگرچہ پہلی کتابوں میں پیش از وقت خبریں دی گئیں تھیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ایسے زمانہ میں تشریف لائے کہ وُہ زمانہ ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کا محتاج ہو رہا تھا لیکن باوجود اِن سب باتوں کے خدا تعالےٰ نے اپنے سچّے نبی کی سچّائی ثابت کرنے کے لیے پہلی پیشگوئیوں پر اکتفا نہ کی اور نہ دُوسرے قرائن کو مکتفیسمجھا بلکہ بہت سے آسمانی نشان اُس پا ک نبی کی تصدیق کے لئے نازل کئے۔ یہاں تک کہ اس نبی کریم کا سچا ہونا کُھل گیا اور آفتا ب کی طرح نُورِ صداقت چمک اُٹھا۔
سو اِسی طرح سمجھنا چاہیئے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے اقوال میں صادق ہے تو