زمانہ ہے حضرت عیسیٰ کی مانند کوئی خلیفہ آنا چاہیے کہ جو تلوار سے نہیں بلکہ روحانی تعلیم اور برکات سے اتمام حجت کرے اور اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو اور خدا تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں تو اب دیکھنا چاہیئے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اگر فرض بھی کیا جائے کہ مثلًا مُسلمانوں میں ؔ سے اِ س زمانہ میں د۱۰س آدمیوں نے دعویٰ کیا ہے تو اُن دس میں سے ایک ضرور صادق او رمسیح موعود ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے مقررکردہ نشان صادق کے وجود کو چاہتے ہیں لیکن جس حالت میں بیس کروڑ مسلمانوں میں سے جو شام اور عرب اور عراق اور مصر اور ہند و غیرہ بلاد میں رہتے ہیں اِس علامات کے زمانہ میں جو کتاب اللہ اور حدیث کی رُو سے مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے صِرف ایک شخص نے مسلمانوں میں سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ایسے مدعی کی تکذیب سے جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا پیشگوئی کی تکذیب لازم آتی ہے۔ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے قرآن سے اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے حاجت بیان نہیں۔ پھر جو دعویٰ اپنے محل اور موقعہ پر ہے اُس کے ردّ کرنے سے تو ایک مُتّقی آدمی کا بدن کانپ جاتا ہے غرض پہلی دلیل اِس عاجز کی صداقت کی ایسے وقت میں دعویٰ کرنا ہے جسوقت کو سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور اولیاء کے مکاشفات نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے خاص کیا ہے جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزمان ٹھہرے اور پھر اُس نبی آخر الزمان سے بھی تیرہ سو برس اور گذر گیا تو پھر اِس حدیث کو سوچو جس میں منبر کے سات درجہ کو جو رؤیا میں دیکھا گیا دُنیا کا سات ہزار برس قرار دیا ہے اور خوب غور کرو کہ کیا یہ زمانہ اُس حدیث کی رُو سے مسیح موعود کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ پھر حدیث الآیات بعد المأتین پر بھی خیال کرو جس سے علماء نے یہ نکالا ہے کہ تیرھویں صدی سے آیات کُبریٰ قیامت کی شروع ہوں گی کیونکہ اگر آیات سے آیات صُغریٰ مُراد ہیں تو اِس صُورت میں بعد المأتین کی شر ط لا حاصل ٹھہرتی ہے خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قیامت