استخلاف محمدی امر استخلاف موسوی سے اسی حالت میں اکمل اور اتم مشابہت پیدا کرسکتا ہے کہ جب کہ اول زمانہ اور آخری زمانہ باہم نہایت درجہ کی مشابہت رکھتے ہوں اور آخری زمانہ کی مشابہت دو باتوں میں تھی ایک امت کا حال ابتر ہونا اور دنیا کے اقبال میں ضعف آجانا اور دینی دیانت اور ایمانداری اور تقویٰ میں فرق آجانا دوسرے ایسے زمانہ میں ایک مجدد کا پیدا ہونا جو مسیح موعود کے نام پر آوے اور ایمانی حالت کو پھر بحال کرے سو پہلی علامت کو ہمارے بھائی مسلمان صرف قبول ہی نہیں کرتے بلکہ ؔ مسلمانوں کا ادبار اور ایک ایسی غیر قوم کا اقبال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جو ان کے مذہب کو ایسا ہی حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے جیسا کہ مجوسی یہودیوں پر غالب آکر حضرت مسیح کے زمانہ میں یہود کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اندرونی حالت اسلام کے علماء اور اسلام کے دنیا داروں کی یہودیوں کے حالات سے کچھ کم نہیں ہے بلکہ خیر سے دہ چند معلوم ہوتی ہے جب ہم قرآن کی پہلی جزو میں ہی یہ آیتیں پڑھتے ہیں جو یہودیوں کے مولویوں کے حق میں ہیں کہ تم لوگوں کو تو نیکی اور بھلائی کے لئے وعظ کرتے ہو اور اپنے تئیں بھول جاتے ہو اور اپنے بھائیوں کے ستانے میں تم قصور نہیں کرتے اور طرح طرح کے لالچوں اور حرام کاریوں اور بدکاریوں اور بدمنصوبوں اور دنیا طلبی کے فریبوں میں مشغول ہو تو بے اختیار دل بول اٹھتا ہے کہ یہ تمام آیتیں ہمارے اکثر مولویوں کے حق میں صادق آرہی ہیں۔ پھر جب کہ ان متلازم علامتوں میں سے ایک علامت کا اس زمانہ میں پایا جانا ہمارے بھائیوں نے خود قبول کر لیا تو دوسری علامت کے قبول کرنے سے منہ پھیرنا بعینہٖ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ آفتاب بے شک نکلا ہوا ہے مگر ابھی دن نہیں چڑھا۔ بہرحال ایک منصف دانا کو اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہوگا کہ آیات قرآنی پر غور کے ساتھ نظر کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محمدی استخلاف کا سلسلہ موسوی استخلاف کے سلسلہ سے بکلی مطابق ہونا چاہئے جیسا کہ کما کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے اور جبکہ بکلی مطابق ہوا تو اس امت میں بھی اس کے آخری زمانہ میں جو قرب قیامت کا