صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمانی صدق دکھلایا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں اوراپنی آبرؤں کو اسلام کی راہوں میں نہایت اخلاص سے قربان کیا اس کا نمونہ اور صدیوں میں تو کجا خود دوسری صدی کے لوگوں یعنی تابعین میں بھی نہیں پایا گیا اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی تو تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مرد صادق کا منہ دیکھا تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفار قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنافی الاطاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کے منہ پر روشن نشانیاں اور اس پاک منہ پر نور الٰہی برستا مشاہدہ کرکے کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبّہٖ کہ محمد ؐ اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے اور پھر صحابہ نے صرف وہ صدق اور محبت اور اخلاص ہی نہیں دیکھا بلکہ اس پیار کے مقابل پر جو ہمارے سید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے ایک دریا کی طرح جوش مارتا تھا خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی تائیدات خارق عادت کے رنگ میں مشاہدہ کیا تب ان کو پتہ لگ گیا کہ خدا ہے اور ان کے دل بول اٹھے کہ وہ خدا اس مرد کے ساتھ ہے انہوں نے اس قدر عجائبات الٰہیہ دیکھے اور اس قدر نشان آسمانی مشاہدہ کئے کہ ان کو کچھ بھی اس بات میں شک نہ رہا کہ فی الحقیقت ایک اعلیٰ ذات موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہریک امر ہے اور جس کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں اسی وجہ سے انہوں نے وہ کام صدق و صفا کے دکھلائے اور وہ جانفشانیاں کیں کہ انسان کبھی کر نہیں سکتا۔ جب تک اس کے تمام شک و شبہ دور نہ ہوجائیں اور انہوں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ وہ ذات پاک اسی میں راضی ہے کہ انسان اسلام میں داخل ہو اور اس کے رسول کریم کی بدل و جان متابعت اختیار کرے تب اس حق الیقین کے بعد جو کچھ انہوں نے متابعت دکھلائی اور جو کچھ انہوں نے متابعت کے جوش سے کام کئے اور جس طرح پر اپنی جانوں کو اپنے برگزیدہ ہادی کے آگے پھینک دیا یہ وہ باتیں ہیں کہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ انسان کو حاصل ہو سکیں جب تک کہ وہی بہار اس کی نظرؔ کے سامنے نہ ہو جو صحابہ پر آئی تھی اور جب کہ ان کمالات کو پیدا کرنا بغیر وجود ان وسائل کے محالات میں سے ہے اور نجات کا یقینی طور پر حاصل ہونا بھی بغیر ذریعہ ان کمالات کے از قبیل محال