اس کو دور کریں اور آسمانی روشنی پاکر دین کی صداقت ہریک پہلو سے لوگوں کو دکھلاویں اور اپنے پاک نمونہ سے لوگوں کو سچائی اور محبت اور پاکیزگی کی طرف کھینچیں اور وہ دلائل یہ ہیں۔ اول یہ کہ اس بات کو عقل ضروری تجویز کرتی ہے کہ چونکہ الٰہیات اور امور معاد کے مسائل نہایت باریک اور نظری ہیں گویا تمام امور غیر مرئی اور فوق العقل پر ایمان لانا پڑتا ہے نہ خدا تعالیٰ کبھی کسی کو نظر آیا نہ کبھی کسی نے بہشت دیکھی اور نہ دوزخ کا ملاحظہ کیا اور نہ ملائک سے ملاقات ہوئی اور علاوہ اس کے احکام الٰہی مخالف جذبات نفس ہیں اور نفس امارہ جن باتوں میں لذت پاتا ہے احکام الٰہی ان سے منع کرتے ہیں لہٰذا عندالعقل یہ بات نہ صرف احسن بلکہ واجب ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک نبی جو شریعت اور کتاب لے کر آتے ہیں اور اپنے نفس میں تاثیر اور قوت قدسیہ رکھتے ہیں یا تو وہ ایک لمبی عمر لے کر آویں اور ہمیشہ اور ہر صدی میں ہریک اپنی نئی امت کو اپنی ملاقات اور صحبت سے شرف بخشیں اور اپنے زیر سایہ رکھ کر اور اپنے ُ پر فیض پروں کے نیچے انکو لے کر وہ برکت اور نور اور روحانی معرفت پہنچاویں جو انہوں نے ابتداء زمانہ میں پہنچائی تھی اور اگر ایسا نہیں تو پھر ان کے وارث جو انہیں کے کمالات اپنے اندر رکھتے ہوں اور کتاب الٰہی کے دقائق اور معارف کو وحی اور الہام سے بیان کرسکتے ہوں اور منقولات کو مشہودات کے پیرایہ میں دکھلا سکتے ہوں اور طالب حق کو یقین تک پہنچا سکتے ہوں ہمیشہ فتنہ اور فساد کے وقتوں میں ضرور پیدا ہونی چاہیئے تا انسان جو مغلوب شبہات و نسیان ہے ان کے فیض حقیقی سے محروم نہ رہے۔ کیونکہ یہ بات نہایت صاف اور بدیہی ہے کہ جب زمانہ ایک نبی کا اپنے خاتمہ کو پہنچتا ہے اور اس کی برکات کے دیکھنے والے فوت ہوجاتے ہیں تو وہ تمام مشہودات منقولات کے رنگ میں آجاتے ہیں۔ پھر دوسری صدی کے لوگوں کی نظر میں اس نبی کے اخلاق اور اس نبی کے عبادات اور اس نبی کا صبر اور استقامت اور صدق اور صفا اور وفا اور تمام تائیدات الٰہیہ اور خوارق اور معجزات جن سے اس کی صحت نبوت اور صداقت دعویٰ پر استدلال ہوتے تھے نئی صدی کے لوگوں کو کچھؔ قصے سے معلوم ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ انشراح ایمانی اور جوش اطاعت جو نبی کے دیکھنے والوں میں ہوتا ہے دوسروں میں وہ بات پائی نہیں جاتی اور صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ