تو ضروری ہوا کہ وہ خدا وند کریم جس نے ہر ایک کو نجات کے لئے بلایا ہے ایسا ہی انتظام ہریک صدی کے لئے رکھے تا اس کے بندے کسی زمانہ میں حق الیقین کے مراتب سے محروم نہ رہیں۔
اور یہ کہنا کہ ہمارے لئے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 33 ۱
اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علیٰ وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلیٰ درجہ بصیرت کا بجز اس کے ممکن نہیں کہ سماوی تائید شامل حال ہوکر اعلیٰ مرتبہ حق الیقین تک پہنچا دیوے پس ان معنوں کرکے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اور اولیاء کاملین مکملین ہیں جن پر آسمانی روشنی پڑی اور جنہوں نے خدا تعالیٰ کو اسی جہان میں یقین کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کررہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حکم 33دوام وجود صادقین کو مستلزم ہے۔
علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لاپروا ہوکر عمر گذارتے ہیں ان کے علوم و فنون جسمانی جذبات سے ان کو ہرگز صاف نہیں کرسکتے اور کم سے کم اتنا ہی مرتبہ اسلام کاکہ دلی یقین اس بات پر ہوکہ خدا ہے ان کو ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا اور جس طرح وہ اپنی اس دولت پر یقین رکھتے ہیں جو ان کے صندوقوں میں بند ہو یا اپنے ان مکانات پر جو ان کے قبضہ میں ہوں ہرگز ان کو ایسا یقین خدا تعالیٰ پر نہیں ہوتا وہ سم الفار کھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ وہ ایک زہر مہلک ہے لیکن گناہوں کی زہر سے نہیں ڈرتے حالانکہ ہر روز قرآن میں پڑھتے ہیں 333 ۲ پس سچ تو یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانتا وہ قرآن کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ ہاں یہ بات بھی درست ؔ ہے کہ قرآن ہدایت کیلئے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدایتیں اس شخص کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں جس پر قرآن نازل ہوا یا وہ شخص جو منجانب اللہ اس کا قائم مقام ٹھہرایا گیا اگر قرآن