اور شیطان ۵ ۱ کی پیروی نہ کرو ۔تم پر روزے۱۶ فرض کئے گئے ہیں مگر جو تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو وہ اتنے روزے ۷ ۱ پھر رکھے- تم ایک دوسرے کے مال ۱۸ کو ناحق کے طور پر مت کھاؤ اور تم تقو۱۹یٰ اختیار کرو تا فلاح پاؤ اور تم خدا کی راہ ۰ ۲ میں ان سے جو تم سے لڑیں لڑو لیکن حدسے مت ۱ ۲ بڑھاؤ اور کوئی زیادتی مت۲ ۲ کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور تم خدا ۳ ۲ کی راہ میں خرچ کرو اور دانستہ۴ ۲ اپنے تئیں ہلاکت میں مت ڈالو۔ اور لوگوں سے احسان۵ ۲ کروکہ خدا محسنین کو دوست رکھتا ہے اور حج ۶۲ اور عمرہ کو اللہ کے واسطے پورا کرو اور اپنے پاس توشہ ۲۷ رکھو کہ توشہ میں یہ فائدہ ہے کہ تم کسی دوسرے سے سوال نہیں کرو گے یعنی سوال ایک ذلت ہے اس سے بچنے کے لئے تدبیر کرنی چاہئے اور تم صلح ۸ ۲ اور اسلام میں داخل ہو۔ اور مشرکات ۹ ۲ سے نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور مشرکین ۰ ۳سے اے عورتو تم نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور اپنے۳۱ نفسوں کے لئے کچھ آگے بھیجو اور خدا ۳۲ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا عرضہ مت بناؤ اور عورتوں ۳۳ کو دکھ دینے کی غرض سے بند مت رکھو اور ۴ ۳ جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور جوروئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن نکاح کرنے سے رکی رہیں۔ اگر تم طلاق ۳۵ دو تو عورتوں کو احسان کے ساتھ رخصت کرو۔ اگر تمہیں خوف ۶ ۳ ہو تو نماز پیرو ں سے چلتے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔ اگر اپنے صدقات ۷ ۳ لوگوں کو دکھلا کے دو تو یہ عموماً اچھی بات ہے کہ تا لوگ تمہارے نیک کاموں کی پیروی کریں اور اگر چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے نفسوں کے لئے بہتر ہے جب ۸ ۳ تم کسی کو قرضہ دو تو ایک نوشت لکھا لو اور قرض ۹ ۳ ادا کرنے میں خدا سے ڈرو اور کچھ باقی مت رکھو اور جب۰ ۴ تم کوئی خرید و فروخت کرو تو اس پر گواہ رکھ لو۔ اور اگر تم سفر ۱ ۴ میں ہو اور کوئی کاتب نہ ملے تو کوئی جائیداد قبضہ میں کرلو۔ تم سب ۲ ۴ مل کر خدا کی رسی سے پنجہ مارو اور باہم پھوٹ مت ڈالو۔ تم میں سے ایسے ۳ ۴ بھی ہونے چاہئیں کہ جو امر معروف اور نہی منکر کریں۔ تم خدا ۴ ۴ کی مغفرت کی طرف دوڑو اورؔ اگر تم میں سے کسی کی بیوی ۵ ۴ فوت ہو جائے تو وہ اس کی جائداد میں سے نصف کا مالک ہے بشرطیکہ اس کی کچھ اولاد نہ ہو اور اگر اولاد۶ ۴ ہو تو پھر اس کو چہارم حصہ جائداد بعد عمل بر وصیت پہنچے گا۔