یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کی طرف ہے لیکن درحقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کیلئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس۔ غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اس کے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طورپر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کی طرف راجع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے عدول کرتا ہے اور جب تک پورا ثبوت اس دعویٰ کا پیش نہ کرے تب تک وہ ایسے طریق کے اختیار کرنے میں ایک ملحد ہے کیا قرآن صرف صحابہ کے واسطے ہی نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے وعد اور وعید اور تمام احکام صحابہ تک ہی محدود ہیں تو گویا جو بعد میں پیدا ہوئے وہ قرآن سے بکلی بے تعلق ہیں۔ نعوذ باللّٰہ من ھذہ الخرافات۔ اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خلافت تیس سال تک ہوگی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ 3۔3 ۱؂ تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اس کے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی ھذا خلیفۃ اللّٰہ المھدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے کیا معترض نے غور نہیں کی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت بعضؔ خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارث آئے گا۔ مہدی آئے گا۔ آسمانی خلیفہ آئے گا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔