اگر قرآن کے خطابات صحابہ تک ہی محدود ہوتے تو صحابہ کے فوت ہو جانے کے ساتھ قرآن باطل ہو جاتا اور آیت متنازعہ فیہا جو خلافت کے متعلق ہے درحقیقت اس آیت سے مشابہ ہے 3 ۱ کیا یہ بشریٰ صحابہ سے ہی خاص تھا یا کسی اور کو بھی اس سے حصہ ہے ۔اور معترض کا یہ کہنا کہ جو شخص اصلی معنوں سے جو خصوصیت مخاطبین ہے عدول کرکے اس کے معنے عموم لیوے اس کا ذمہ ہے کہ وہ دلیل یقینی سے اپنے عدول کو ثابت کرے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف معترض کو قرآن کریم سے بلکہ تمام الٰہی کتابوں کے اسلوب کلام سے کچھ بھی خبر نہیں مشکل یہ ہے کہ اکثر شتاب کار لوگ قبل اس کے جو پورے طور پر خوض کریں اعتراض کرنے کو طیار ہوجاتے ہیں۔ اگر معترض صاحب کو صحیح نیت سے تحقیق کا شوق تھا تو وہ تمام ایسے موقعہ جہاں بظاہر نظر صحابہ مخاطب ہیں جمع کرکے دیکھتے کہ اکثر اغلب اور بلا قیام قرینہ قرآن شریف میں کیا محاورہ ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جو اکثر اغلب محاورہ ثابت ہوگا اسی کے موافق اصلی معنی ٹھہریں گے اور ان سے عدول کرنا بغیر قیام قرینہ جائز نہیں ہوگا۔ اب ظاہر ہو کہ اصل محاورہ قرآن کریم کا خطاب حاضرین میں عموم ہے اور قرآن کا چھ۶۰۰ سو حکم اسی بناء پر عام سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ صحابہ تک محدود سمجھا جائے پھر جو شخص عام محاورہ سے عدول کرکے کسی حکم کو صحابہ تک ہی محدود رکھے اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہوگا کہ قرائن قویہ سے یہ ثابت کرے کہ یہ خطاب صحابہ سے ہی خاص ہے اور دوسرے لوگ اس سے باہر ہیں مثلاً اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں بظاہر صحابہ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم صرف خدا کی۱ بندگی کرو اور صبر۲ اور صلٰوۃ کے ساتھ مدد چاہو اور پاک۳ چیزوں میں سے کھاؤ اور کسی قسم کا فساد۴ مت کرو۔ اور تم زکٰو۵ۃ اور نما۶ز کو قائم کرو اور مقام ابرا۷ہیم سے جائے نماز ٹھہراؤ۔ اور خیرا۸ت میں ایک دوسرے سے سبقت کرو اور مجھ کو یاد کرومیں۹ تم کو یاد کروں گا۔ اور میرا شکرؔ ۱۰ کرو۔ اور مجھ ۱۱ سے دعا مانگو اور جو لوگ۲۱ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو اور جو تم کو سلام۱۳ علیکم کرے اس کا نام کافر اور بے ایمان نہ رکھو۔ پاک ۱۴ چیزیں زمین کی پیداوار میں سے کھاؤ