خواہ وہ رُوحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکو کار ہیں۔ اور یہ وہم کہ عام معنوں کی رُو سے ان آیات کی اخیر کی آیت یعنی333 ۱؂ بالکل بے معنی ٹھہر جاتی ہے ایسا بیہودہ خیال ہے جو اس پر ہنسی آتی ہے کیونکہ آیت کے صاف اور سیدھے یہ معنی ہیں کہ اللہ جلّ شانہ‘ خلیفوں کے پَیدا ہونے کی خوشخبری دے کر پھر باغیوں اور نافرمانوں کو دھمکی دیتا ہے کہ بعد خلیفوں کے پَیدا ہونے کے جب وہ وقتًا فوقتًا پَیدا ہوں اگر کوئی بغاوت اختیار کرے اور ان کی اطاعت اور بیعت سے مُنہ پھیرے تو وُہ فاسق ہے۔ اب نادرستی معنوں کی کہاں ہے اور واضح ہو کہ اس آیت کریمہ سے وہ حدیث مطابق ہے جو پیغمبر خد ا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ من لم یعرف امام زمانہٖ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ۔ جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیّت کی موت پرمر گیا یعنی جیسے جیسے ہر یک زمانہ میں امام پَیدا ہوں گے اور جو لوگ اُن کو شناخت نہیں کریں گے تو ان کی موت کفارکی موت کے مشابہ ہو گی اور معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرناکہ33333۲؂ اور اِس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکم کا لفظ اِس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھر اپڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطابیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے۔ ہاں جس جگہ کوئی صریح اور صاف قرینہ تحدید خطاب کا ہو وہ جگہ مستثنیٰ ہے چنانچہ آیت موصوفہ بالا میں خاص حواریوں کے ایک طائفہ نے نزول مائدہ کی درخواست کی اُسی طائفہ کومخاطب کر کے جواب ملا۔ سو یہ قرینہ کافی ہے کہ سوالؔ بھی اسی طائفہ کا تھا اور جواب بھی اسی کو ملا اور یہ کہنا کہ اس کی مثالیں کثرت سے قرآن میں ہیں بالکل جُھوٹ اور دھوکا دینا ہے ۔ قرآن میں بیاسی کے قریب لفظ منکم ہے اور چھ سو کے قریب اور اور صورتوں میں خطاب ہے لیکن تمام خطابات احکامیہ وغیرہ میں تعمیم ہے