ماسوا س کے منکم کے لفظ سے یہ استدلال پَیداکرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحابہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔ اب واضح ہو کہ منکم کالفظ قرآن کریم میں قریبًا بیا۸۲سی جگہ آیا ہے اور بجُز دویاتین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مُراد ہیں جو قیامت تک پَیدا ہوتے رہیں گے۔ اب نمونہ کے طور پر چند وہ آیتیں ہم لکھتے ہیں جن میں منکمکا لفظ پایاجاتاہے۔ (۱) 333 ۱؂ یعنی جو تم میں سے مریض یا سفر پر ہو تو اتنے ہی روزے اور رکھ لے ۔ اب سوچو کہ کیا یہ حکم صحابہ سے ہی خاص تھا یا اس میں اور بھی مسلمان جو قیامت تک پَیداہوتے رہیں گے شامل ہیں ایسا ہی نیچے کی آیتوں پر بھی غور کرو۔ (۲) 333۲؂ یعنی یہ اُس کو وعظ کیا جاتا ہے جو تم میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ (۳)33 ۳؂ یعنی تم میں سے جو جو روئیں چھوڑ کر فوت ہو جائیں (۴) 333۴؂ یعنی تم میں سے ایسے لوگ ہونے چاہئیں جونیکی کی دعوت کریں اور امر معروف اورنہی منکر اپنا طریق رکھیں۔ (۵)33 ۵؂ مَیں تم میں سے کسی عامل کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہوخواہ عورت ہو۔ (۶) 333۶؂ ناجائز طور پر ایک ؔ دوسرے کے مال مت کھاؤ مگر باہم رضامندی کی تجارت سے۔ (۷)33333۷؂ یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے