تناسخ کے اُن کی رُوحیں پھر آجانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیونکر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیاجاتاہے جن کی وفات پر آیت3333 ۱ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی رُوحوں کا دوبار ہ دُنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسیٰ کا بجسدہ العنصری پھر زمین پر آجانا بہت معقول ہے ۔پھر اگر نصوص بیّنہ صریحہ قرآنیہ کو بباعث استبعاد ظاہری معنوں کے مؤوّل کر کے طریق صرف عن الظاہر اختیار کیاجاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ نصوص احادیثیہ کا صرف عن الظاہر جائز نہیں کیا احادیث کی قرآن کریم سے کوئی اعلیٰ شان ہے کہ تا ہمیشہ احادیث کے بیان کو گو کیسا ہی بعید از عقل ہو ظاہر الفاظ پر قبول کیا جائے اور قرآ ن میں تاویلات بھی کی جائیں۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ بعض صاحب آیت 3333 ۲ کی عمومیت سے انکارکر کے کہتے ہیں کہمنکم سے صحابہ ہی مرادہیں اور خلافتِ راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہو گئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام و نشان نہیں ہو گا ۔ گویا ایک خوا ب وخیال کی طرح اس خلافت کاصرف تیس۳۰ برس ہی دَورتھا اورپھر ہمیشہ کیلئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑگیا مگرمَیں پُوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چود ہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتدہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے رُوحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کو سُن کر تو ہمارا بدنؔ کانپ جاتا ہے مگر افسو س کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالاکی اور بیباکی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مُدّت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔