آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیمّم کرلو۔ (۸) 33 ۱؂ یعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی تابعداری کرو۔ (۹) 333 ۲؂ یعنی جو شخص تم میں سے بوجہ اپنی جہالت کے کوئی بدی کرے او رپھر توبہ کرے اور نیک کاموں میں مشغول ہو جائے پس اللہ غفور رحیم ہے۔ (۱۰)333333 ۳؂ یعنی جو شخص تم میں سے ایسا کام کرے دُنیا کی زندگی میں اُس کو رسوائی ہو گی اورقیامت کو اُس کے لئے سخت عذاب ہے۔ (۱۱)3 ۴؂ یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوزخ میں وارد نہ ہو۔ ( ۱۲)33 ۵؂ یعنی ہم اُن لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں۔ اب ان تمام مقامات کو دیکھو کہ منکم کا لفظ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے خواہ اس وقت موجود تھے خواہ بعد میں قیامت تک آتے جائیں ایسا ہی تمام دوسرے مقامات میں بجُز دو تین موضعوں کے عام طور پر استعمال ہوا ہے اور تمام احکام میں بظاہر صورت مخاطب صحابہ ہی ہیں لیکن تخصیص صحابہ بجز قیام قرینہ کے جائز نہیں۔ ورنہ ہر یک فاسق عذر کر سکتا ہے کہ صوم اور صلٰوۃ اور حج اور تقویٰ اورطہارت اورؔ اجتناب عن المعاصی کے متعلق جس قدر احکام ہیں ان احکام کے مخاطب صرف صحابہ ہی تھے اِس لئے ہمیں نماز روزہ وغیرہ کی پابندی لازم نہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کلمات بجز ایک زندیق کے اور کوئی خدا ترس آدمی زبان پر نہیں لا سکتا۔ اگر کسی کے دِل میں یہ خیال گذرے کہ اگر آیت وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فائدہ عموم کا