شاہد ہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ صاف فرماتاہے 33333 ۱ ؂ یعنی تم وہ وقت یاد کرو جبکہ تم نے نہ کسی اور نے یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پرتو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم آپ ظاہر ظاہر خدا کو نہ دیکھ لیں اور پھر تم کو بجلی نے پکڑا او ر تم دیکھتے تھے۔ اور اس آیت میں ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے اِ س آیت کے مضمون میں موجودہ یہودیوں کو گذشتہ لوگوں کے قائم مقام نہیں ٹھہرایا بلکہ اُن کو فی الحقیقت گذشتہ لوگ ہی ٹھہرا دیا تو اس صورت میں قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے یہودیوں کے وہی نام رکھ دئے جو اُن گذشتہ بنی اسرائیل کے نام تھے کیونکہ جبکہ یہ لوگ حقیقتًا وہی لوگ قرار دیئے گئے تو یہ لازمی ہوا کہ نام بھی وہی ہوں وجہ یہ کہ نام حقائق کے لئے مثل عوارض غیر منفک کے ہیں اور عوارض لازمیہ اپنے حقائق سے الگ نہیں ہو سکتے۔ اب خوب متوجہ ہو کر سوچو کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے صریح اور صاف لفظوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم نے ہی ایسے ایسے برے کام حضرت موسیٰ کے عہد میں کیے تھے تو پھر ایسی صریح اور کُھلی کُھلی نص کی تاویل کرنا اور احادیث کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جوقرآن کریم کی رُو سے وفات یافتہ ہے پھر زمین پر اُتارنا کیسی بے اعتدالی اور ناانصافی ہے ۔ عزیزو! اگر خدا تعالیٰ کی یہی عادت اور سنت ہے کہ گزشتہ لوگوں کو پھر دُنیا میں لے آتا ہے تو نص قرآنی جو بہ تکراردر تکرارگزشتہ لوگوں کو مخاطب کر کے اُن کے زندہ ہونے کی شہادت دے رہی ہے اس سے در گذرکرنا ہرگز جائز نہیں اوراگر وہاں یہ دھڑکہ دل کو پکڑتا ہے کہ ایسے معنے گو خدا تعالیٰ کی قدرت سے تو بعید نہیں لیکن معقولؔ کے برخلاف ہیں۔ اِسلئے تاویل کی طرف رُخ کیاجاتاہے اور وہ معنے کئے جاتے ہیں جو عند العقل کچھ بعید نہیں ہیں تو پھر ایسا ہی حضرت عیسیٰ کے آنے کی پیشگوئی کے معنے کرنے چاہئیں کیونکہ اگر گذشتہ یہودیوں کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زندہ ہوجانا یا اگر بطریق