معقولی شق کی طرف خیال نہ ہو اور ظاہر الفاظ پر اڑ جانا واجب سمجھے تو کم سے کم ان آیات سے یہ ثابت ہو گاکہ مسئلہ تناسخ حق ہے ورنہ کیونکر ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ ایک فاعل کے فعل کو کسی ایسے شخص کی طرف منسوب کرے جس کو اِس فعل کے ارتکاب سے کچھ بھی تعلق نہیں حالانکہ وُہ آپ ہی فرماتاہے33 ۱؂ پھر اگر موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کی نافرمانی کی تھی اور اُن پر بجلی گری تھی یا انہوں نے گوسالہ پرستی کی تھی اور ان پر عذاب نازل ہواتھا تو اس دُوسری قوم کو ان واقعات سے کیا تعلق تھا جودو ہزار برس بعد پیدا ہوئے۔ یُوں تو حضرت آدم سے تا ایں دم متقدمین متاخرین کے لئے بطور آباء و اجدا د ہیں لیکن کسی کا گنہ کسی پر عائد نہیں ہو سکتا ۔ پھر خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ فرمانا کہ تم نے موسیٰ کی نافرمانی کی اور تم نے کہا کہ ہم خدا کو نہیں مانیں گے جب تک اس کو دیکھ نہ لیں اور اس گنہ کے سبب سے تم پر بجلی گری کیونکر ان تمام الفاظ کے بنظر ظاہر کوئی اور معنے ہو سکتے ہیں بجُز اس کے کہ کہا جائے کہ دراصل وہ تمام یہودی جوہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی موجود تھے اور انہیں پر من و سلوٰی نازل ہوا تھا اور انہیں پر بجلی پڑی تھی اور انہیں کی خاطر فرعون کو ہلاک کیا گیا تھا اور پھر وہی یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بطور تناسخ پیدا ہو گئے اور اِ س طرح پر خطاب صحیح ٹھہر گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیوں ایسے سیدھے سیدھے معنے نہیں کئے جاتے ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے دُور ہیں اور کیوں ایسے معنے قبول کئے جاتے ہیں جو تاویلات بعیدہ کے حکم میں ہیں کیا خداتعالیٰ قادر نہیں کہ جس طرح بقول ہمارے مخالفوں کے وہ حضرت عیسیٰ کو بعینہٖ بجسدہ العنصری کسی وقت صدہا برسوں کے بعد پھر زمین پر لے آئے گا۔ اسی طرح اُس نے حضرت موسیٰ کے زمانہ کے یہودیوں کو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زندہ کر دیا ہو یا اُن کی رُوحوں کو بطور ؔ تناسخ پھر دُنیا میں لے آیا ہو جس حالت میں صرف بے بنیاد اقوال کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ کی روح کا پھر دنیا میں آناتسلیم کیا گیا ہے تو کیوں اور کیا وجہ کہ ان تمام یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ بطور تناسخ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آجاناقبول نہ کیاجائے جن کے موجود ہوجانے پرنصوص صریحیہ بیّنہ قرآن کریم