نہ اُن کے بیٹوں کوکسی نے قتل کیا نہ وہ کسی دریا سے پار کئے گئے۔ پھر آگے فرماتا ہے33333۔33۔333 ۱؂ یعنی وہ وقت یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا کہ ہم تیرے کہے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو بچشم خود نہ دیکھ لیں تب تم پر صاعقہ پڑی اور پھر تم کو زندہ کیا گیا تاکہ تم شکرکرو اور ہم نے بادلوں کو تم پر سائبان کیا اور ہم نے تم پر من و سلویٰ اُتارا۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ تو ان یہودیوں سے جو قرآن میں مخاطب کئے گئے دو ہزار برس پہلے فوت ہو چکے تھے اور ان کا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نام ونشان بھی نہ تھا پھر وہ حضرت موسیٰ سے ایسا سوال کیونکرکر سکتے تھے کہاں اُن پر بجلی گری کہاں انہوں نے من وسلویٰ کھایا۔ کیا وہ پہلے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اور اورقالبوں میں موجودتھے اور پھر آنحضرتؐ کے زمانہ میں بھی بطور تناسخ آموجود ہوئے اور اگر یہ نہیں تو بجز اس تاویل کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ مخاطبت کے وقت ضروری نہیں کہ وہی لوگ حقیقی طور پر واقعات منسوبہ کے مصدا ق ہوں جو مخاطب ہوں۔ کلام الٰہی اوراحادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ایک قاعدہ ٹھہر گیا ہے کہ بسا اوقات کوئی واقعہ ایک شخص یا ایک قوم کی طرف منسوب کیاجاتا ہے اور دراصل وہ واقعہ کسی دوسری قوم یادُوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے اور اسی باب میں سے عیسیٰ بن مریم کے آنے کی خبر ہے کیونکہ بعض احادیث میں آخری زمانہ میں آنے کاایک واقعہ حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ وہ فوت ہو چکے تھے پس یہ واقعہ بھی حضرت مسیحؔ کی طرف ایسا ہی منسوب ہے جیسا کہ واقعہ فرعون کے ہاتھ سے نجات پانے کا اور منّ و سلوٰی کھانے کا اور صاعقہ گرنے کا اور دریا سے پار ہونے کا اورقصّہ 33 ۲؂ کا اُن یہودیوں کی طرف منسوب کیاگیا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے ۔ حالانکہ وہ واقعات اُن کی پہلی قوم کے تھے جو اُن سے صد ہا برس پہلے مر چکے تھے ۔ پس اگر کسی کو آیات کے معنے کرنے میں