خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدّث رکھے گئے اور اسی کی طرف اِس آیت میں اشارہ ہے کہ ۱؂ چونکہ ثُلّۃ کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے۔ اِس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس امّت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی اُمّت کے مرسلوں کے برابر ہیں اور درحقیقت اسی کی طرف اس دُوسر ی آیت میں بھی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ ۲ ؂ یعنیخدانے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیاہے کہ البتہ اُنہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو کیا جواُن سے پہلے گذر گئے اور اُن کے دین کو جو اُن کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اوراُن کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (الجزو نمبر۱۸ سُورۃنور) اب غور سے دیکھو کہ اِس آیت میں بھی مماثلت کی طرف صریح اشارہ ہے اور اگر اس مماثلت سے مماثلت تامہ مُراد نہیں تو کلام عبث ہوا جاتا ہے کیونکہ شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا نہ صرف تیس ؔ برس تک اور صدہا خلیفے رُوحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ منکم کالفظ دلالت کرتا ہے کہ وہ خلیفے صرف صحابہ میں سے ہوں کیونکہ منکم کے لفظ میں مخاطب صرف صحابہ ہیں تو یہ خیال ایک بدیہی غلطی ہے اور ایسی بات صر ف اُس شخص کے مُنہ سے نکلے گی جس نے کبھی قرآن کریم کو غور سے نہیں پڑھا اور نہ اُس کی اسالیب کلام کو پہچاناکیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ مخاطبت کے وقت وہی لوگ مُراد ہوتے ہیں جو موجودہ زمانہ میں بحیثیت ایمانداری زندہ موجود ہوں تو ایسا تجویز کرنے سے سارا قرآن