زیرو زبر ہو جائے گا۔ مثلًا اسی آیت موصوفہ بالا کے مشابہ قرآن کریم میں ایک اور آیت بھی ہے جس میں اسی طرح بظاہر الفاظ وہ لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے اوراس وقت زندہ موجود تھے بلکہ ان آیات میں تو اس بات پر نہایت قوی قرائن موجود ہیں کہ درحقیقت وہی مخاطب کئے گئے ہیں اوروہ آیات یہ ہیں33333333۔33333 ۱؂ الجزو نمبر۹ سورۃ الاعراف۔ یعنی فرعون نے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور اوراُن کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور تحقیقًا ہم ان پر غالب ہیں۔ تب موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اورصبر کرو زمین خدا کی ہے جس کو اپنے بندوں سے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام بخیر پرہیز گاروں کا ہی ہوتا ہے۔ تب موسیٰ کی قوم نے اس کو جواب دیا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستا ئے گئے تو موسیٰ نے اُن کے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ خُداتمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور زمین پر تمہیں خلیفے مقرر کر دے اور پھر دیکھے کہ تم کس طور کے کام کرتے ہو ۔ اَب اِ ن آیات میں صریح اور صا ف طور پروہی لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم میں سے اُنؔ کے سامنے زندہ موجود تھے اور انہوں نے فرعون کے ظلموں کا شِکوہ بھی کیا تھا اورکہا تھا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی اور انہیں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ تم ان تکلیفات پر صبر کرو خدا تمہاری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گا اور تمہارے دشمن کو ہلا ک کر دے گا اور تم کو زمین پر خلیفے بنا دے گا لیکن تاریخ دانوں پر ظاہر ہے اور یہودیوں اورنصاریٰ کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گو اس قوم کا دشمن یعنی فرعون اُن کے سامنے ہلاک ہوا مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر۔ بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک