یہ ہے کہ موسوی شریعت اگرچہ جلالی تھی اورلاکھوں خون اس شریعت کے حکموں سے ہوئے یہاں تک کہ چار لاکھ کے قریب بچہ شیر خوار بھی مار ا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اُس سلسلہ کا خاتمہ رحمت پر کرے اور انہیں میں سے ایسی قوم پَیدا کرے کہ وہ تلوار سے نہیں بلکہ علم اور خلق سے اور محض اپنی قوّتِ قدسیہ کے زور سے بنی آدم کو راہ راست پر لاویں۔ اَب چونکہ مماثلت فی الانعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ تبھی متحقق ہوسکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو۔ پس اِسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قریبًا چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطاکئے گئے کہ وہ رسول اور ملہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خُلق سے حق کی طرف دعوت کی۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو بر طبق حدیث علمآء امتی کانبیآء بنی اسرآئیل ملہم اورمحدّث تھے اورجس طرح موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوتِ حق کی ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا تا وہ بھی صرف خُلق اور رحمت اور انوار آسمانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسٰی علیہ السلام سے قریبًا چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھو۱۴یں صدی کے ؔ سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلّی پا گیا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کیلئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدّث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔ اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں3 ۱؂ آیا ہے اور یہ نہیںآیا کہ قفّینا من بعدہٖ بالانبیاء۔ پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدّث ہوں چونکہ ہمارے سیّد و رسول صلی اللہ علیہ وسلم