منجملہ اُن کے یہ آیت ہے ۱ اب ظاہر ہے کہ کَمَا کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں۔ چنانچہ توریت باب استثنا میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مماثلت سے مُراد مماثلت تامہ ہے نہ کہ مماثلت ناقصہ۔ کیونکہ اگر مماثلتِ ناقصہ مراد ہو تو پھر اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی وجہ یہ کہ ایسی مماثلت والے بہت سے نبی ثابت ہونگے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تلوار بھی اُٹھائی اور حضرت موسیٰ کی طرح جنگ بھی کئے۔ اورعجیب طور پرفتحیں بھی حاصل کیں مگر کیاوہ اِس پیشگوئی کے مصداق ٹھہرسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب مماثلت سے مماثلت تامہ مراد ہو۔ اور مماثلت تامہ کی عظیم الشان جزوں میں سے ایک یہ بھی جزو ہے کہ اللہ جلّ شانہ‘نے حضرت موسٰی ؑ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا جو قریبًا چودہ سو برس تک ممتد ہو کر آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اُس کا خاتمہ ہوا اِس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صاحبِ وحی اور الہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ شریعت موسوی کے حامیوں کی ایسےؔ عجیب طور پر مدد کرتا رہا جو ایک حیرت انگیزیاد گار کے طور پر وہ باتیں صفحات تاریخ پر محفوظ رہیں جیسا کہ اللہ جلّ شانہ‘ فرماتا ہے۔یعنی ہم نے موسیٰ کوکتاب دی اوربہت سے رُسل اس کے پیچھے آئے پھر سب کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اُس کو انجیل دی اور اُس کے تابعین کے دلوں میں رحمت اور شفقت رکھ دی یعنی وہ تلوار سے نہیں بلکہ اپنی تواضع اور فروتنی اور اخلاق سے دعوتِ دین کرتے تھے اِس آیت میں اشارہ