چھٹیعلامت نہروں کا نکلنا اورپھر ساتویں علامت زمین کی آبادی اورکاشتکاری زیادہ ہو جانا اور پھر آٹھویں علامت پہاڑوں کا اُڑایا جانا اور پھر نویں علامت تمام علوم وفنون جدیدہ کی ترقی ہونا۔ پھردسویں علامت گناہ اور تاریکی کا پھیلنا اوردُنیا سے تقویٰ اور طہارت اور ایمانی نور اُٹھ جانا پھر گیارھویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کابکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نُور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں اعمال اُن کے دجّال کے ساتھ ہیں اور زبانیں انکی اسلام کے ساتھ یعنی عملی طور پر وہ دجّال کے خادم اورممسوخ الصورت اور حیوانی شکل ظاہر کر رہے ہیں مگر زبانیں اُن کی انسان کی سی ہیں۔ پھر بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیاگیا ہے۔ اور نفخ حقیقت میں دو قسم پر ہے ایک نفخ اضلال اور ایک نفخ ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس کی طر ف اشارہ ہے ۔ ۱ یہ آیتیں ذو الوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اوراس عالم سے بھی۔ جیسا کہ آیت ۲ اور جیسا کہ آیت ۳ اوراس عالم کے لحاظ سے اِن آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دوزمانے آئیں گے۔ ایکؔ ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہوگی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دُوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔ پس ناگاہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے۔ یعنی غفلت دُور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہو جائیں گے گو ایمان نہ لاویں۔
اور علاوہ ان آیات کے قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اِس آخری زمانہ اور مسیح موعود کے آنے پر دلالت کرتی ہیں لیکن اِن معانی مبارکہ کے ماخذ دقیق ہیں۔ اِس لئے ہریک سطحی خیال کا آدمی اِس طرف توجہ نہیں کرسکتا اورموٹی سمجھ ان دقائق کو پا نہیں سکتی چنانچہ