مرسل کو بھیجے گا۔ تا مختلف قوموں کا فیصلہ ہو اور چونکہ قرآ ن شریف سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ظلمت عیسائیوں کی طرف سے ہوگی اور ایسا مامور من اللہ بلا شبہ اُنھیں کی دعوت کے لئے اور اُنھیں کے فیصلہ کے لئے آئے گا۔ پس اسی مناسبت سے اس کا نام عیسیٰ رکھا گیاہے۔ کیونکہ وہ عیسائیوں کے لئے ایسا ہی بھیجا گیا جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن کے لئے بھیجے گئے تھے اور آیت ۱؂ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ مجدّد جس کا بھیجنا بزبان رسول کریم معہود ہو چکا ہے وہ اُس عیسائی تاریکی کے وقت میں بھیجا جائے گا۔ جس قدر اب تک ہم آیات قرآن کریم لِکھ چکے ہیں اُن سے بخوبی ظاہر ہے کہ ضرور قرآن کریم میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں دین عیسوی دُنیا میں بکثرت پھیل جائے گا۔ اوروہ لوگ ارادہ کریں گے کہ تادینِ اسلام کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیں اور جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہوگا اپنے دین کی بھلائی میں کوئی دقیقہ چھوڑ نہیں رکھیں گے۔ تب خد اتعالیٰ دینِ اسلام کی نصرت کی طرف متوجہ ہو گا اور اُس فتنہ کے وقت میں دِکھلائے گا کہ وہ کیونکر اپنے دین اور اپنے پاک کلام کا محافظ ہے۔ تب اُس کی عادت اور سنت کے موافق ایک آسمانی روشنی نازل ہو گی اور ہر ایک سعید اُس روشنی کی طرف کھینچا جائے گا یہاں تک کہ تمام سعادت کے جگر پارے ایک ہی دین کے جھنڈے کے نیچے آجائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمادیا ہے کہ لڑائیوں اورؔ مباحثات کے شور اُٹھنے کے وقت میں نفخ صور ہو گا تب سعید لوگ ایک ہی مذہب پر جمع کئے جائیں گے اور پھر یہ بھی فرمادیاکہ تاریکی کے وقت میں رسولوں کو بھیجا جائے گا۔ اب اس سے اور کیا تصریح ہو گی کہ اللہ جلّ شانہ‘نے اوّل آخری زمانہ کی علامت یاجوج ماجوج کا غلبہ یعنی روس اور انگریزوں کا تسلّط بیان فرمایا۔ پھر دُوسری علامت بہت سے فرقے پَیدا ہوجانا قرار دیا۔ پھر تیسری علامت ان فرقوں کا آپس میں مباحثات کرنا اورموج کی طرح ایک دوسرے پر پڑنا بیان فرمایا۔ پھر چوتھی علامت ریل کا جاری ہونا ۔ پھر پانچویں علامت کتابوں اوراخبار کے شائع ہونے کے ذریعے جیسے چھاپہ خانہ اور تار برقی۔ پھر