جاویگا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی ۱ اور جس وقت تارے گدلے ہو جاویں گے یعنی علماء کا نُورِ اخلاص جاتا رہے گا ۲ اور جس وقت تارے جھڑ جاویں گے یعنی ربّانی علماء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آباد رہ سکیں۔ یاد رہے کہ مسیح موعود کے آنے کیلئے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سُورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔ اور اِن پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلافِ قیاس ہے کہ کوئی دانا ہرگز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ درحقیقت سُورج کی روشنی جاتی رہے اور ستارے تمام زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اُس حالت میں مسیح موعود آوے۔ اور پھر فرمایا 3 ۳ جس وقت آسمان پھٹ جاوے۔ ایسا ہی فرمایا۔3 ۴ اور انجیل میں بھی اسی کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر اِن آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ درحقیقت اُس وقت آسمان پھٹ جائے گایا اُس کی قوتیں سُست ہوجائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بیکار سا ہو جائے گا ۔ آسمان سے فیوض نازل نہیں ہونگے اوردُنیا ظلمت اورتاریکی سے بھر جائے گی۔ اورپھر ایک جگہ فرمایا ۵ اورجب رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طر ف ہے اور اِس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رُسل کا لفظ واحدپر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے اور یہ مَیں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی۔ پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کیلئے جمع ہوں تو اٰمنّا وصدّقنا لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ کی ابتر علامات بیان فرما کر پھر اخیر پر یہ بھی فرمادیا کہ اس وقت رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے۔ تو قرآئن بیّنہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اُس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی اپنے