کو ایک دم میں خاک میں ملادیوے اور اس قسم کے کام اب تک بہت ظہور میں آئے ہیں کہ جو سیّد صاحب کی نظر میں قانون قدرت کے مخالف ہیں۔ مگر اُن کا بیان کرنا بے فائدہ ہے کہ سیّدصاحب اس کو ایک قصّہ سمجھیں گے ۔ سیّد صاحب وحئ ولایت کی ایسی پیشگوئیوں سے بھی تو منکر ہیں جو بذریعہ الہام اولیا ء اللہ کو معلوم ہوتے ہیں۔ اور اُن کی نظر میں وہ ایسی ہی خلافِ قانون قدرت ہیں جیسا کہ آگ کا اپنی خاصیتِ احراق کو چھوڑ دینا ۔ ایساؔ ہی دُعا کی ذاتی تاثیرات بھی جن کے ذریعہ سے وہ مطلب حاصل ہوجاتا ہے۔ جس کیلئے دُعا کی گئی سیّد صاحب کی نظر میں خلاف قانون قدرت ہیں ۔ سو اگر سیّد صاحب میرے پاس آ نہیں سکتے تو ان دونوں باتوں میں ہی وعدہ قبولِ حق کر کے مجھ کو اجازت دیں کہ اُن کی نسبت جناب الٰہی میں توجّہ کر کے جو کچھ ظاہر ہو وہ شائع کروں اس سے عام لوگوں کو فائدہ ہوجائیگا ۔اگر سیّد صاحب کی رائے درحقیقت درست ہے ، تو میں اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہوں گا ۔ورنہ عقلمند لوگ سیّد صاحب کے خراب عقیدوں سے نجات پا کر پھر اپنے عظیم الشان خدا تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور محبت سے اُس کی طرف رجوع کریں گے۔ اور دُعا کے وقت اُس کی رحمتوںؔ سے نااُمید نہیں ہونگے۔ اور ہاتھ اُٹھانے کے وقت لذّت اٹھا ئینگے۔ اور خدا تعالیٰ کے وجود کا فائدہ بھی تو یہی ہے کہ ہماری دُعائیں سُنے اور آپ اپنے وجود سے ہمیں خبر دے۔ نہ کہ ہم ہزار ہزار تکلیف سے ایک بُت کی طرح ایک فرضی خدا دل میں قائم کریں۔ جس کی ہم آواز نہیں سُن سکتے۔ اور اُس کی نمایاں قدرت کا کوئی جلوہ نہیں دیکھ سکتے ۔ یقیناًسمجھو کہ وہ قادر خدا موجود ہے جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وما غلت ایدیہ بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء و یفعل مایرید۔ و ھو علی کل شیء قدیر۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین ۔